صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 138 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 138

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۳۸ ۶۴ - کتاب المغازی مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا آپؐ نے فرمایا: اجازت ہے۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ اس الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا صَدَقَةً وَإِنَّهُ قَدْ کے پاس آئے اور کہنے لگے : اس شخص نبی کریم ملی ایم) عَنَّانَا وَإِنِّي قَدْ أَتَيْتُكَ أَسْتَسْلِفُكَ نے ہم سے صدقه مار اور ہمیں کئی تکلیفوں میں مانگا ہے اور قَالَ وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ قَالَ إِنَّا قَدِ مبتلا کر دیا ہے ، میں تمہارے پاس آیا ہوں کہ تم سے اُدھار لوں ۔ کعب بولا : ( ابھی کیا ہے ) اور بھی تکلیفیں مسلمہ اتَّبَعْنَاهُ فَلَا نُحِبُّ أَنْ نَّدَعَهُ حَتَّى اُٹھاؤ گے، بخدا اُس سے اکتا جاؤ گے۔ محمد بن نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيْرُ شَأْنُهُ نے کہا: چونکہ ہم اس کے ساتھ ہو لئے ہیں اس لئے وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ پسند نہیں کرتے کہ اسے چھوڑ دیں جب تک یہ نہ دیکھ وَسْقَيْنِ وَحَدَّثَنَا عَمْرُو غَيْرَ مَرَّةٍ فَلَمْ لیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے اور ہم چاہتے ہیں ایک يَذْكُرْ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ یا دو وق کے غلہ یا کھجور ) ہمیں ادھار دو۔ اور عمرو فِيْهِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ أُرَى فِيْهِ (بن دینار) نے یہ روایت کئی بار ہم سے بیان کی اور وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ نَعَمِ ایک یا دو وسق کا ذکر نہیں کیا۔ میں نے پوچھا: کیا اس روایت میں ایک یا دو وسق کا ذکر ہے ؟ تو کہنے لگے : ارْهَنُوْنِي قَالُوا أَيَّ شَيْءٍ تُرِيدُ قَالَ میں سمجھتا ہوں کہ ایک یا دو وسق کا ذکر ہے۔ کعب نے ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ قَالُوا كَيْفَ کہا: اچھا میرے پاس رہن رکھو۔ انہوں نے کہا: تم نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ کیا شے چاہتے ہو؟ کہنے لگا: اپنی عورتیں تم میرے پاس الْعَرَبِ قَالَ فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ قَالُوا رہن رکھو۔ انہوں نے کہا: تمہارے پاس اپنی عورتیں كَيْفَ نَرْهَبُكَ أَبْنَاءَنَا فَيُسَبُّ کیسے رہن رکھیں بحالیکہ تم عربوں میں نہایت خوبصورت أَحَدُهُمْ فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ ہو۔ کہنے لگا: پھر اپنے بیٹے ہی میرے پاس رہن رکھو۔ انہوں نے کہا: ہم تمہارے پاس اپنے بیٹوں کو کیسے وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَكِنَّا رہن رکھیں انہیں طعنہ دیا جائے گا، کہا جائے گا کہ وہ نَرْهَنُكَ اللَّامَةَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي ایک یا دو وسق کے لئے رہن رکھے گئے تھے، یہ السّلاحَ فَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَجَاءَهُ ہمارے لئے عار ہے لیکن تمہارے پاس اپنی زرہیں لَيْلًا وَمَعَهُ أَبُو نَائِلَةَ وَهُوَ أَخُو كَعْبٍ رہن رکھتے ہیں۔ سفیان کہتے تھے : زرہ سے ان کی ا ایک وسق بعض کے نزدیک حمل الْبَعِيرِ یعنی ایک اونٹ کا بوجھ ہے۔ (المنجد في اللغة)