صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 137 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 137

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی کی جو اصطلاح ہے اس کا نظارہ ہانگ کانگ کی گلی کوچوں، وادی اردن و ارض فلسطین و شام لبنان کی سرحدوں، ڈین بین فو Dien Bien Phu)، الجزائر ، ہنگری، تبت ، ممالک شیوعیہ اور سرخ چین کے میدان ہائے محشر میں نا قابل دید تھا اور ناقابل گفتنی۔گزشتہ میں سال کی مدت میں چار کروڑ انسان خانہ بدوش بنائے گئے، نہایت شکستہ حالی اور اخلاق سوزی کا تختہ مشق تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو میگزین ٹائم ہفتہ وار واشنگٹن ۴ جنوری ۱۹۶۰ زیر عنوان Refugee۔اس سے جلا وطنی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔عیسائی تمدن کے ان خونی ڈراموں سے بنو قینقاع کی ہجرت کیا نسبت رکھتی ہے جو ایک محدود قبیلے سے متعلق تھی اور محدود عرصہ کے لئے۔کیونکہ بنو قینقاع کے مہاجر افراد بعد میں معافی طلب کر کے مدینہ واپس آگئے تھے اور انہوں نے بنو قریظہ کی جلاوطنی کے وقت مہاجرین اور انصار کی مدد کی تھی۔اس کا ذکر آگے اپنے موقع پر آئے گا۔آیت محولہ بالا کا مفہوم واقعات کے پیش نظر واضح ہے۔یہود کے لئے مدینہ منورہ سے چلا جانا ہی بہتر تھا۔ورنہ وہ بھی اپنی عادت فتنہ انگیزی کی وجہ سے خطرے میں رہتے اور مدینہ کا امن بھی مخدوش رہتا۔اس وقت جو کچھ ہوا حق و حکمت سے ہوا اور تقاضائے وقت کے بالکل مطابق۔باب ١٥: قَتْلُ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ کعب بن اشرف کا قتل ٤٠٣٧ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۰۳۷: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعْتُ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔عمرو بن دینار ) کہتے تھے: جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، يَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعب بن اشرف سے کون نپٹے گا؟ اس نے اللہ اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ اس کے رسول کو سخت اذیت دی ہے۔محمد بن مسلمہ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَامَ کھڑے ہو گئے، کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا آپ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ چاہتے ہیں کہ میں اسے مار ڈالوں؟ آپ نے فرمایا: أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأْذَنْ ہاں۔کہا: تو پھر آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی لِي أَنْ أَقُوْلَ شَيْئًا قَالَ قُلْ فَأَتَاهُ طرف سے اس کے لئے کوئی صورت پیدا کروں۔1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ ٹال ہے (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۴۲۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔