صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 136
صحيح البخاری جلد ۸ ۱۳۶ ۶۴ - کتاب المغازی بدطینتی اور کج روی کی وجہ سے فتنے کا کوئی نہ کوئی شاخسانہ فساد کا باعث بن جاتا۔اس لئے ہموجب معاہدہ جلا وطنی کی کم از کم سزا انہیں دی گئی اور اس سزا کی تنفیذ میں بھی ان سے نرمی کا سلوک کیا گیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دس دن کی مہلت دی کہ سوائے اسلحہ کے جو قابل انتقال سامان وہ اپنے ساتھ لے جاسکیں لے جائیں اور جو فروخت کرنا چاہیں فروخت کر لیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱ صفحہ ۱۲۶) اور پھر جہاں انہوں نے جانا پسند کیا ان کے حلیفوں میں سے قابل اعتماد حلیف حضرت محمد بن مسلمہ کی نگرانی میں وہ بحفاظت پہنچائے گئے۔سیرت ابن ہشام اور تاریخ طبری کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جلوس کی صورت میں گاتے بجاتے نکلے۔- الحشر کے معنی مطلق نقل مکانی ہے۔یہ لفظ قیامت کے لئے مجازاً استعمال ہوا ہے کیونکہ اس میں بھی ایک قسم کی نقل مکانی ہوتی ہے۔(اقرب الموارد - حشر ) قبائل کے لئے نقل مکانی کوئی مشکل امر نہ تھا۔یہود نے اپنی نقل مکانی کے لئے خیبر ، تیماء، وادی قرئی اور اذرعات وغیرہ کے زرخیز علاقے منتخب کئے جہاں دیگر یہودی قبیلے پہلے سے آباد تھے۔بنو قینقاع کے سب قبائل کو جلا وطنی کی سزا نہیں دی گئی تھی بلکہ صرف سرغنہ اور فتنہ پر واز قبیلہ ہی جلاوطن کیا گیا تھا اور اس قبیلہ کے بعض افراد اپنی غلطی کی معافی طلب کر کے مدینہ میں پھر واپس آگئے تھے۔اس تعلق میں غزوہ خیبر کی تفصیلات دیکھی جائیں۔( باب :۳۸: غزوة خبير ) امام شیبانی نے اپنی کتاب العصر باب السیر میں لکھا ہے اور ان کی تائید میں سرخسی نے المبسوط میں ذکر کیا ہے کہ بنو قینقاع نے بنو قریظہ کی جنگ میں مدد کی تھی۔کے اس سے بھی ظاہر ہے کہ سب جلا وطن نہیں ہوئے تھے بلکہ معاہدہ چاک کر کے لڑنے والا قبیلہ ہی مدینہ سے رخصت کیا گیا تھا۔آج کل بھی دنیا کے جن علاقوں میں دو ہمسایہ قومیں کشیدہ تعلقات رہتی ہیں اور جہاں آئے دن فتنہ و فساد ہو تا رہتا ہے نقل مکانی کا طریق ہی پسند کیا گیا ہے جیسے ہندوستان، فلسطین اور کور یا وغیرہ کی تقسیم میں ہوا۔ہمارے زمانہ میں بھی نقل مکانی ہوئی ہے اس میں جو وحشیانہ ہنگامے ہوئے اور جس قدر خون ریزی اور تباہی ہوئی بلکہ عمد اکرائی گئی وہ دنیا میں ہمیشہ لعنت کے ساتھ یاد کی جائے گی۔ہندوستان کی تقسیم کے وقت جو المیہ ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہوا، وہ رہتی دنیا تک آنسو رلانے والی داستان ہے۔وحشت و بربریت میں تمام المناک واقعات پر سبقت لے گیا ہے اور ایسا روح فرسا اور نہایت ہی مکروہ سانحہ ہے جس کی مثال تاریخ عالم میں مشکل سے ملتی ہے۔اس سے قبل ارض فلسطین میں عربوں کے ساتھ جو خون آشام ڈرامہ یہودیوں کے ہاتھوں سے کھیلا گیا، اس کے کھیلنے والے برطانیہ اور امریکہ ہی تھے۔”پناہ گزین“ مہذب دنیا 1 (السيرة النبوية لابن هشام ، أمر إجلاء بني النضیر ، جزء ۳ صفحه (۱۴۵) (تاريخ الرسل والملوك للطبرى سنة أربع من الهجرة، ذكر خبر جلاء بنی النضیر ، جزء ۲ صفحہ ۵۵۴) (المبسوط للسرخسى كتاب السير، جزء ۱۰ صفحه ۲۳)