صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 135 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 135

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۳۵ ۶۴ - کتاب المغازی ابوسفیان نے جب یہ شعر کہے تو اس وقت اپنے آبائی دین پر تھے اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے۔مذکورہ اشعار سیرت ابن ہشام میں بنو قریظہ کی غداری کے ذکر میں نقل کئے گئے ہیں۔ابن ہشام کے مطابق بنو قریظہ نے متوقع مدد سے مایوس ہو کر قلعے کے دروازے کھول دیئے۔بنو قریظہ نے میثاق مدینہ توڑ کر خلافت معاہدہ قریش کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا کہ ان کے مدینہ داخل ہونے پر یہود اُن کی مدد کریں گے اور اگر بیرونی حملہ آوروں کو خندق عبور کر کے شہر کے اندر داخل ہونے کا موقع مل جاتا تو بنو قریظہ محصور مسلمانوں کی خون ریزی اور تباہ کاری سے کبھی در ریغ نہ کرتے۔جب تک یہ قبیلہ اپنے معاہدہ پر قائم رہا، اس نے مدینہ میں امن و آزادی سے زندگی بسر کی اور اس وقت جلا وطن کیا گیا جب اس کی غداری ایک کھلی حقیقت بن گئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان یہودی قبائل سے نیک سلوک اور آپ کا ان سے عفو و درگزر اتنا واضح ہے اور اس کے مقابل میں ان کی طرف سے نقض میثاق کا جرم اتنا عیاں کہ ہر قبیلے کی جلاوطنی کے وقت کوئی دوسرا قبیلہ ان کی مدد کے لئے آگے نہ بڑھا اور نہ اس کے حلیفوں میں سے کوئی حلیف اس کے کام آیا۔آپ کے ایفائے عہد سے متعلق تاکید کی احکام اور اس بارے میں آپ کے اسوۂ حسنہ اور شدید دشمن کی شہادت کا ذکر کتاب الجزية والموادعة باب ۱۳ تا۷ امیں گزر چکا ہے۔بنو نضیر کی جلا وطنی کے تعلق میں قبیلہ بنو قریظہ کی جلا وطنی کا ذکر باب ۱۴ کے تحت ضمنا کیا گیا ہے۔یہود کے مدینہ سے اخراج کے ضمن میں کتاب الجہاد باب ۱۶۸، کتاب فرض الخمس باب ۱۲، کتاب الجزية والموادعة باب ۶، کتاب المغازی باب ۳۰ بھی دیکھئے۔باب ۱۴ کی روایت نمبر ۴۰۲۸ میں یہود بنی حارثہ کی جلاوطنی کا بھی ذکر ہے۔نص میثاق جو شرح باب کے شروع میں نقل کی گئی ہے۔اس کی مکمل عبارت میں ان سے متعلق بھی یہ الفاظ ہیں: وَإِنَّ لِيَهُودِ بَنِي الْحَارِثِ مِثْلَ مَا لِيَهُودِ بَنِي عَوْفٍ - یعنی جو معاہدہ یہود بنی عوف کے ساتھ ہے وہی معاہدہ یہود بنی حارث کے ساتھ۔وادی یثرب کی بستیاں قبائل کے نام سے مشہور تھیں۔یہودی قبائل بھی ان میں آباد تھے۔ان میں سے ہر قبیلہ کسی نہ کسی عربی قبیلے کا حلیف تھا اور اس کی طرف منسوب ہوتا۔روایت نمبر ۴۰۳۳ کے تعلق میں دیکھئے کتاب فرض الخمس باب ا، کتاب الفرائض باب ۳۔باغ فدک جو بطور نئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ میں آیا۔حسب ارشاد باری تعالیٰ اس کی آمد سے خرچ ہو تا رہا جیسا کہ مفصل بیان کیا جا چکا ہے۔سورۃ الحشر کی آیت نمبر ۴ ہے: وَ لَوْ لَا أَنْ كَتَبَ اللهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاء لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ ترجمہ : اگر اللہ ان کے لئے جلا وطنی نہ لکھتا تو انہیں دنیا میں ہی سزا دیتا اور انہیں آخرت میں آگ کی سزا ملے گی۔یعنی یہود کی جلا وطنی ان کے حق میں مفید تھی کیونکہ انہیں ایسے ماحول سے الگ کیا گیا جس میں وہ امن سے نہیں رہ سکتے تھے۔ان کی ذہنیت بگڑ چکی تھی۔اپنے حلیفوں سے بھی ان کے تعلقات کشیدہ تھے۔ان کی (السيرة النبوية لابن هشام ، ما قيل من الشعر في أمر الخندق وبني قريظة، جزء ۳ صفحه ۲۱۷) (السيرة النبوية لابن هشام ، كتابه بين المهاجرين والأنصار وموادعة يهود، جزء ۲، صفحه ۱۴۵)