صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 134
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۳ ۶۴ - كتاب المغازی غرض سے ایک حصہ باغ جلو ایا گیا تھا۔ حضرت حسان بن ثابت اپنے اشعار میں بنو نضیر کی غداری اور اس کے انجام کا ذکر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں: تَفَاقَدَ مَعْشَرُ نَصَرُوا قُرَيْشًا وَلَيْسَ لَهُمْ بِبَلْدَتِهِمْ نَصِيرُ هُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ فَضَيَّعُوهُ وَهُمْ عُمْيٌ مِنَ التَّوْرَاةِ بُوْرُ كَفَرْتُمْ بِالْقُرْآنِ وَقَدْ أَتَيْتُمْ بِتَصْدِيقِ الَّذِي قَالَ النَّذِيرُ فَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُوَّي حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ ایک گروہ کھو گیا اُس نے قریش کو مدد دی اور اب حالت یہ ہے کہ (قریش کے) شہر میں اُن کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ انہیں کتاب ملی تھی جو انہوں نے ضائع کر دی اور وہ تو رات سے نابینا ہیں وہ برباد ہیں۔ تم نے قرآن کا بھی انکار کر دیا بحالیکہ جو بات خطرے سے آگاہ کرنے والے نے کہی تھی اسے تم سچ پا چکے ہو۔ بویرہ کی شعلہ زن آتش بنولوئی (قریش) کے سرداروں کے لئے ایک معمولی سی بات ہے (جن کے برتے پر تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غداری کی۔ انہوں نے تمہاری پر پیشہ بھر پر واہ نہیں کی۔) امام بخاری کے سیرت ابن ہشام کے مذکورہ بالا اشعار قبول کرنے سے ظاہر ہے کہ محمد بن اسحاق کی ان اشعار سے متعلق روایت درست ہے۔ جب ابوسفیان کو حسان بن ثابت کے محولہ بالا اشعار کا علم ہوا تو چونکہ وہ اور قریش ان میں مطعون ہیں کہ اپنے حلیفوں کی مدد سے قاصر رہے ہیں اس لئے ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب نے اس کا جواب شعروں میں دیا اور بد دعا کی کہ مدینہ کے ارد گرد آگ ہمیشہ بھڑکتی رہے۔ بار ہے۔ سیرت ابن ہشام ۔ اہشام میں یہ شعر بھی منقول ہیں: أَدَامَ اللهُ ذَلِكَ مِنْ صَنِيع وَحَرَّقَ فِي طَرَائِقِهَا السَّعِيرُ سَتَعْلَمُ أَيُّنَا مِنْهَا بِنُرُه وَتَعْلَمُ أَيُّ أَرْضَيْنَا تَضِيرُ فَلَوْ كَانَ النَّخِيلُ بِهَا رِكَابًا لَقَالَوْا لَا مُقَامَ لَكُمْ فَسِيرُوا صحیح بخاری کی روایت نمبر ۴۰۳۲ کے شعر میں طَرَائِقِهَا کی جگہ نَوَاحِيها منقول ہے۔ یہ الفاظ مفہوما ایک ہی ہیں طرَائِق" طَرِيقَة کی جمع ہے۔ یعنی ارد گرد، چاروں طرف ان اشعار کان رف ان اشعار کا ترجمہ یہ ہے: اللہ یہ کارروائی ہمیشہ جاری رکھے اور مدینہ کے چاروں طرف آگ بھڑکائی جاتی رہے۔ تمہیں عنقریب علم ہو جائے گا کہ کون اس آگ سے دور رہتا ہے اور پتہ لگ جائے گا کہ ہمارے علاقوں میں سے کسی علاقہ کو وہ نقصان دے گی۔ اگر کھجوروں کے درخت سواریاں بن جائیں تو اُن پر سوار ہو جاؤ۔ تمہارے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں یہاں سے چلے جاؤ۔ ا۔ (الكشاف للزمخشرى تفسير سورة الحشر آیت ۵، جزء ۴ صفحه ۵۰۱) (السيرة النبوية لابن هشام، ما قيل من الشعر فى أمر الخندق وبنى قريظة، جزء ۳ صفحه ۲۱۷)