صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 133
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی یاد رہے کہ ہر زبان کا ایک خاص اسلوب بیان ہے اور اس کے کچھ معین قواعد ہیں جو معانی کے حامل ہوتے ہیں۔صرف لفظی ترجمہ پورے مفہوم کو ادا نہیں کر سکتا جب تک مخصوص اسلوب اور قواعد زبان ملحوظ نہ رکھے جائیں۔ہر زبان کے بہت سے محاورے ایسے ہیں، دوسری زبان میں جن کا ترجمہ ممکن نہیں۔یہ سوال کہ آیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اپنے وقت میں آیات زیر شرح کا مفہوم وہی سمجھے تھے جو بیان کیا گیا ہے ؟ تو یہاں صرف اس قدر بیان کر دینا کافی ہے کہ الفاظ کے معانی اور پیشگوئیوں کا مجمل مفہوم سامعین خوب سمجھتے تھے۔مثلاً فا روتھ کے معنی یہی مروی ہیں کہ تم نے قتل نفس کے بارے میں جھگڑا کیا۔لے اور جہاں تک مجمل پیشگوئیوں کی تفصیل کا تعلق ہے تو وہ جب پوری ہو ئیں تو اس وقت صحابہ کرام نے اظہار کیا کہ سورۃ الحشر یہودی قبائل مدینہ کی جلا وطنی سے متعلق ہے اور سورۃ الانفال غزوہ بدر سے اور فلاں سورۃ کی فلاں آیت کا تعلق فلاں واقعہ سے ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی طرف سے آیات و واقعات میں اس قسم کی تطبیق شان نزول کی اصطلاح سے مشہور ہے جس کا ذکر اپنے موقع پر انشاء اللہ تعالیٰ مفصل آئے گا۔صحابہ کر ام اہل زبان تھے۔انہیں تفسیر قرآن کریم لکھنے لکھوانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی جیسا کہ ان کے بہت بعد اُن لوگوں کو احساس ہوا جو زبان عربی سے نابلد اور واقعات سے ناواقف تھے جس کی وجہ سے محققین نے تابعین اور تبع تابعین وغیرہ سے روایتیں جمع کرنے کی کوشش کی۔ان میں سے ایک بہت بڑے پائے کے محقق حضرت امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری ہیں۔باب ۱۴ کے معنونہ فقرات (۱) مَخْرَجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، (٢) فِي دِيَةِ الرَّجُلَيْنِ اور (۳) مَا أَرَادُوا مِنَ الْغَدْرِ کی تشریح ہو چکی ہے۔شعر وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لؤي کا تعلق بنو نضیر کی جلاوطنی سے اور آیت مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لَّيْنَةٍ (الحشر: 1) کا تعلق بھی انہی سے ہے۔(۲) بنی لوئی سے مراد قریش مکہ ہیں۔حضرت حسان بن ثابت ان اشعار میں بنو نضیر کو ملامت کرتے ہیں کہ قریش کی خاطر تم نے معاہدہ چاک کر ڈالا اور ان کی مدد کے بھروسے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش کی مگر جب تمہارے بویرہ والے باغ میں آگ لگی تو قریش کو ذرا بھی احساس نہ ہوا، تمہاری خانہ بربادی حقیر سی بات سمجھی۔"بویرہ" بُورَةٌ کا اسم تصغیر ہے۔بُورَةٌ کے معنی ہیں گڑھا۔یثرب کی وادیوں میں سے ایک وادی میں بنو نضیر کے باغات تھے جو بویرہ نام سے مشہور تھے کہ یہ مقام مدینہ کے جنوب مشرق میں مسجد قباء کے قریب ہے، اسے بویلہ بھی کہتے ہیں۔لبنة ناقص قسم کی کھجور ہے جسے کھل بھی کہتے ہیں۔اس کا پھل اونی قسم کا اور کھانے میں کم استعمال ہوتا ہے۔عجوة اور برنی قسم کی کھجوریں عمدہ ہوتی ہیں، یہ نہیں جلوائی گئیں۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۱۶) جب حصار طول پکڑنے لگا تو مرعوب کرنے کی غرض سے کھجوروں کا ایک حصہ جلوا دیا گیا جس سے طبعاً بنو نضیر خوفزدہ ہوئے اور جب اندرونی اور بیرونی امداد سے انہیں مایوسی ہوئی تو وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔بعض کا خیال ہے کہ مورچہ بندی کی (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء ، باب و اذ قال موسى لقومه أن الله يأمركم أن تذبحوا بقرة) (معجم المعالم الجغرافية فى السيرة النبوية البويرة)