صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 8
صحیح البخاری جلد ۸ A ۶۴ - كتاب المغازی روایت مذکورہ بالا (نمبر ۳۹۵۰) سے ظاہر ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کو اپنے عمرہ کے دوران علم ہو گیا تھا کہ قریش کے سینوں کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی اور وہ برا را دو رکھتے ہیں۔ابو جہل نے حضرت سعد سے یہ کہا کہ کیا تم ان بے دینوں کو پناہ دے کر اپنے آپ کو مطمئن سمجھتے ہو ؟ جس کا جواب حضرت سعد نے بلند آواز سے دیا کہ اگر تم نے مدینہ پر حملہ کیا تو اپنے تجارتی کاروبار سے محروم کر دیئے جاؤ گے یعنی شام اور یمن کے تجارتی راستوں سے امن سے گزر نہیں سکو گے۔ابو جہل کی دھمکی سے اس خبر کی تصدیق ہو گئی کہ عبد اللہ بن اُبی کو قریش مکہ کی طرف سے خط آیا ہے کہ مہاجرین کو پناہ نہ دی جائے بلکہ وہ مدینہ سے نکال دیئے جائیں ورنہ ہم حملہ کر کے تم کو تباہ کر دیں گے۔ابو داؤد نے یہ خط ان الفاظ میں نقل کیا ہے: إِنَّكُمْ آوَيْتُمْ صَاحِبَنَا، وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَاتِنُنَّهُ أَوْ لَتُخْرِجُنَّهُ أَوْ لَنَسِيُرَنَّ إِلَيْكُمْ بِأَجْمَعِنَا حَتَّى نَقْتُلَ مُقَاتِلَتَكُمْ، وَنَسْتَبِيحَ نِسَاءَكُمْ۔تم لوگوں نے ہمارے آدمی کو پناہ دے رکھی ہے اور ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم لوگ اس سے جنگ کر دیا اسے باہر نکال دو، ورنہ ہم سب مل کر تم پر چڑھائی کریں گے یہاں تک کہ تمہارے جنگ کے قابل لوگوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنے لیے جائز بنالیں گے۔عبد اللہ بن ابی وہی شخص ہے جس کی تاج پوشی کی رسم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر منسوخ کر دی گئی تھی اور مذکورہ بالا خط سے اس کی دلی امیدیں پھر اُبھر آئی تھیں اور وہ عرصہ تک موقع کی تلاش اور تاج پوشی کی امید میں رہا۔امام بخاری نے حضرت سعد کا مذکورہ بالا واقعہ بطور تمہید نقل کیا ہے کہ جنگ کی طرح ہجرت کے ساتھ ہی پڑ چکی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ مکرمہ سے چلے جانا معمولی بات نہ تھی کہ قریش مکہ اسے نظر انداز کر دیتے اور آنحضرت صلی علیکم کو اس بات کا پورا احساس تھا کہ آپ کو سارے ہی عرب سے جنگ کرنی پڑے گی۔اس لئے آپ نے ان قبائل قریش سے راہ و رسم پیدا کی جو تجارتی راستے کے قرب وجوار میں تھے اور ان حالات کا جائزہ لینا شروع کر دیا کیونکہ مدینہ کو سب سے پہلا اور زیادہ خطرہ انہی قبائل قریش کا ہو سکتا تھا جو مدینہ کے قرب وجوار میں آباد تھے۔آپ نے مدینہ منورہ میں آنے پر ایک طرف باشندگانِ مدینہ کے درمیان ایک قومی میثاق تجویز کیا جو ضبط تحریر میں لایا گیا اور خود حفاظتی کے تعلق میں آپ نے مدینہ منورہ اور اس کے ملحقات کو باذن الہی حرم ( محفوظ علاقہ ) قرار دے دیا اور دوسری طرف دور و نزدیک کے ہمسایہ قبائل کے ساتھ تعلقات موالاۃ قائم کئے۔قریش مکہ کے بد ارادوں اور ان کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھی اور صحیح معلومات حاصل کرنے میں حضرت سعد بن معاذ اور ابو صفوان (امیہ) کے دوستانہ تعلقات سے بھی فائدہ اُٹھایا۔یہ زمانہ انتہائی تفکرات کا تھا۔مدینہ کے اندر عبد اللہ بن ابی کی ریشہ دوانیاں اور فتنہ وفساد اور تحویل قبلہ کے بعد یہودی قبائل مدینہ کی غداری کا خدشہ اور باہر سے قریش کی جنگی تیاریوں کی اطلاعات سے آپ کو رات دن فکر رہتی کہ کہیں مسلمانوں کی کمزوری اور کمی تعداد کو غنیمت سمجھ کر قریش مکہ قبائل عرب کی مدد سے مدینہ پر اچانک حملہ آور نہ ہو جائیں، آپ کو اس فکر سے راتوں نیند نہ آئی اور علم ہونے پر صحابہ کرام کی طرف سے پہرہ کا نے سنن ابی داود، كتاب الخراج، باب في خبر النضير ) (صحیح البخاری، کتاب فضائل المدينة، بابا)