صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 9
صحيح البخاری جلد ۸ ۹ ۶۴ - کتاب المغازی انتظام کیا گیا تا آپ آرام سے سو سکیں (روایت نمبر ۲۸۸۵) بلکہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ صحابہ کرام بھی مسلح رہتے۔حاکم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : كَانُوا لَا يَبِيتُونَ إِلَّا بِالسَّلَاحِ وَلَا يُصْبِحُونَ إِلَّا فِيهِ یہ وہ نازک حالات تھے جن میں غزوات نبویہ کا آغاز ہوا۔یہ نہیں تھا کہ یونہی ہمسایہ قبائل پر چڑھائی شروع کر دی گئی۔جیسا کہ بعض متعصب عیسائی مصنفین نے لفظ غزوہ سے استدلال کیا ہے جن غزوات کا ذکر باب ا میں ہوا ہے وہ اور اس قسم کی دیگر ابتدائی چھوٹی بڑی مہمات قطعا لڑائی کی غرض سے نہ تھیں بلکہ حالات کا جائزہ لینے اور ہمسایہ قبائل سے تعلقات قائم کرنے کی غرض سے تھیں جیسا کہ سر یہ عبیدہ بن حارثے ، سر یہ سعد بن ابی وقاص، سریہ عبد اللہ بن جحش اسدی وغیرہ۔ان سب ابتدائی مہمات میں علم سفید تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ابتدائی تیاریاں بین دلیل ہیں اس امر کی کہ آپ ایک نہایت بیدار مغز اور ڈور اندیش سپہ سالار تھے۔بَابِ ۳: قِصَّةُ غَزْوَةِ بَدْرٍ غزوہ بدر کا بیان وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر ( جو اس نے بدر بدر و انتُم اَذِلَّةُ فَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ کے بارے میں فرمایا:) اور (اس سے پہلے) بدر (کی جنگ) میں جبکہ تم حقیر تھے اللہ یقینا تمہیں مدد تَشْكُرُونَ اِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ الَن دے چکا ہے، سو تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم يكفِيكُم أَن تُمدَّكُم رَبُّكُم بِثَالثَةِ ألف شکر گزار بنو۔(اے نبی ! اس وقت کو بھی یاد کر) جب تو مومنوں سے کہہ رہا تھا کہ کیا تمہارے لئے یہ مِنَ الْمَلَكَةِ مُنْزَلِينَ ، بَلَى إِنْ تَصْبِرُوا (بات) کافی نہ ہوگی کہ تمہارا رب ( آسمان سے ) نازل وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هذا کئے ہوئے تین ہزار فرشتوں کے ذریعہ سے تمہاری مدد کرے؟ کیوں (کافی) نہ ہوگی اگر تم صبر کرو اور يمددكم رَبُّكُم بِخَمْسَةِ الفِ مِنَ تقویٰ اختیار کرو اور (کافر) تم پر اسی دم چڑھ آئیں المَلائِكَةِ مُسَوّمِيْنَ وَمَا جَعَلَهُ اللهُ إِلا تو تمہارا رب پانچ ہزار سخت حملہ کرنے والے بشرى لَكُمْ وَ لِتَطْمَبِنَ قُلُوبُكُم بِهِ وَمَا فرشتوں کے ذریعہ سے تمہاری مدد کرے گا اور اللہ نے یہ بات صرف تمہارے لئے خوشخبری کے طور النَّصْرُ الاَ مِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ پر اور اس لئے کہ تمہارے دل اس کے ذریعہ سے لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا اَوْ يَكْبِتَهُمُ اطمینان پائیں ، مقرر کی ہے (اور ) اس لئے (مقرر (المستدرك للحاكم، كتاب التفسير ، سورة النور، شان نزول آية وعد الله الذین، جزء ۲ صفحه (۴۰۱)