صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 7 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 7

صحیح البخاری جلد ۸ کے ۶۴ - کتاب المغازی اس میں ناکام ہوئے۔آپ کا تعاقب کیا، اس میں بھی ناکام ہوئے۔اہل مدینہ کو پیغام بھیجا کہ آپ کو پناہ نہ دی جائے اور مہاجرین ان کے سپرد کر دیئے جائیں اور اس میں بھی ناکام ہوئے۔انہیں آپ کی ذات سے بغض نہ تھا بلکہ عقائد سے بغض تھا۔جن کے پھیلنے میں نہ صرف ان کے عقائد کی بیخ کنی تھی بلکہ صنم پرستی مٹنے کے ساتھ وہ اپنی دولت و عزت، قوت وسطوت اور جاہ و حشمت کا بھی خاتمہ دیکھتے تھے۔اسلام کے غلبہ میں انہیں اپنی موت نظر آرہی تھی۔وہ کب برداشت کر سکتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام آزادی سے قبائل عرب میں تبلیغ اسلام کریں۔اس لئے قریش مکہ دن رات اس فکر میں تھے کہ کسی طرح اسلام کا نام و نشان مٹادیا جائے اور ان کے لئے سوائے اس کے چارہ نہ تھا کہ پناہ دہندگانِ مدینہ سے نبرد آزما ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس حقیقت سے بے خبر نہ تھے بلکہ آپ کو بخوبی علم تھا کہ اہل مکہ حملہ آور ہوں گے۔ہجرت سے قبل بمقام عقبہ حج کے موقع پر جب قبیلہ اوس اور خزرج کے ستر (۷۰) افراد نے آنحضرت علی ای تم سے پوشیدہ ملاقات کی اور آپ کو مدینہ آنے کی دعوت دی اور جان ومال سے آپ کی حفاظت کا وعدہ کیا تو حضرت عباس بن عبد المطلب نے انہیں اسی وقت آگاہ کر دیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دینا آسان کام نہیں بلکہ سارے عرب سے لڑائی مول لینا ہے اور ان سے کہا کہ جو ذمہ داری وہ اُٹھا ر ہے ہیں اچھی طرح سوچ سمجھ لیں کہ آیا وہ اسے پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔اس بارہ میں ان کے یہ الفاظ مروی ہیں : فَإِن كُنْتُمْ أَهْلَ قُوَّةٍ وَجَدَةٍ وَبَصَرٍ بِالْحَرْبِ وَاسْتقلال بِعَدَاوَةِ الْعَرَبِ قَاطِبَةً تَرْمِيكُمْ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ۔فَارْتَأْوُا رَأْيَكُمْ وَأُتَمِرُوا بَيْنَكُمْ وَلَا تَفْتَرِقُوْا إِلَّا عَنْ مَلَا مِنْكُمْ وَاجْتِمَاعِ فَإِنْ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ أَصْدَقُهُ۔یعنی اگر تم لوگ صاحب قوت و طاقت ہو ، اور جنگ میں ماہر ہو اور سارے عرب کی عداوت جو تم پر ایک ہی کمان سے تیر اندازی کریں گے صبر واستقلال سے برداشت کرنے والے ہو تو اپنی رائے پر غور کر لو اور آپس میں مشورہ کر لو، باہم اختلاف نہ کرو جو کچھ کرو، اپنے معززین کے تابع اکٹھے ہو کر کرو۔سب سے بہتر بات وہی ہے جو سب سے زیادہ کچی ہو۔اس کا جواب حضرت براء بن معرور نے دیا کہ ہم نے مدینہ آنے کی جو دعوت دی ہے وہ سوچ سمجھ کر دی ہے۔نُرِيدُ الْوَفَاء وَالصَّدْقَ وَبَذْلَ مُهَجِ انْفُسِنَا دُونَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّعَے ہم وفا اور صدق کا ارادہ رکھتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کریں گے۔اس کے ہم معنی الفاظ ابو الہیثم بن التیبان وغیرہ نے بھی کہے: نَقْبَلُهُ عَلَى مُصِيبَةِ الْأَمْوَالِ وَ قَتْلِ الْأَشْرَافِ یعنی ہر مالی اور جانی مصیبت کے باوجود ہم آپ کو قبول کریں گے۔غرض یہ امر تھا کہ قریش مکہ اپنی نظر آنے والی ناکامی کسی حال میں بھی برداشت نہیں کریں گے اور وہ ہجرت کے بعد مطمئن نہ تھے کہ ان کے مذہب اور عقیدے کا دشمن یہاں سے چلا گیا اور قصہ ختم ہوا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نظر سے یہ بات مخفی تھی کہ قریش ان کو نابود کرنے میں پورا زور لگائیں گے۔(الطبقات الكبرى، ذكر العقبة الآخرة وهم السبعون الذين بايعوا رسول الله، جزء اول صفحه ۱۸۹)