صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 132 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 132

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۳۲ ۶۴ - کتاب المغازی یہ وہ سیاق کلام ہے جو آیت اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرَى وَالبِيْنَ مَنْ أَمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الأخرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ) (البقرة : ٦٣) سے شروع اور آیت وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (البقرة : ۷۵) پر ختم ہوتا ہے۔اسی سیاق کلام کے ضمن میں واقعہ قتل نفس کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ الہی تجلیات رحم و غضب کا پیش خیمہ بنے گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام جنگیں انہی تجلیات کی شہادت بین تھیں۔ان جنگوں کے ذریعہ سے دلوں کی سنگلاخ زمین نرم ہو کر آب حیات کا چشمہ رواں بنی۔زندہ ہونے والے زندہ ہو گئے اور ہلاک ہونے والے ہلاک۔لیهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيْنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ وَإِنَّ اللهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ ) (الأنفال: ۴۳) بعض علماء کا خیال ہے کہ چونکہ زیر شرح آیات کے سیاق کلام میں بنی اسرائیل کا ذکر ہے اس لئے اِذْ قَتَلْتُمُ نفسا میں حضرت یحی علیہ السلام کے قتل یا حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعہ صلیب کی طرف اشارہ ہے جنہیں یہودی اپنے زعم میں قتل کر چکے تھے۔اور اس صلیبی واقعہ میں بھی بہت بڑا اختلاف ہوا اور اس ظلم عظیم پر یہودیوں کو قیصر رومی طیطاؤس کے ذریعہ سے نہایت عبرت ناک سزا ملی تھی۔ہے یہ قتل اور اس قسم کا ہر وہ واقعہ قتل ، آیت سے مراد لیا جا سکتا ہے جو غضب الہی کے بھڑ کانے کا موجب ہوا ہو۔دراصل آیت وَاذْ قَتَلْتُم سے یہ امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ یہود کی بد اعتقادی کے ساتھ ان کی بد عملی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ خود قتل کر کے اس کی ذمہ داری دوسرے بے گناہوں پر ڈالنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔دَرَأَ عنه کے معنی ہیں اس سے الزام دور کیا۔اد ار أتم: تم نے ایک دوسرے پر الزام ڈالا۔(تاج العروس در ا) یہ حالت نفس غایت درجہ قساوت قلب پر مبنی ہے۔اس آیت میں ایجاز اسی لئے اختیار کیا گیا ہے کہ تفصیل مقصود بالذات نہیں بلکہ مقصود بالذات حالت قساوت قلبی کا بیان ہے اور یہ اسلوب بیان ایسا ہے کہ سابقہ واقعات پر بھی منطبق ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو واقعہ قتل نفس یہود کی تباہی کا موجب ہوا، اس پر بھی۔له ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ”یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ جو یہودی ہیں اور نصاریٰ اور دیگر الہی کتب کے ماننے والے جو بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ، اور نیک اعمال بجالائے اُن سب کے لئے اُن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اُن پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غم کریں گے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ”تاکہ کھلی کھلی حجت کی رو سے جس کی ہلاکت کا جواز ہو ، وہی ہلاک ہو اور کھلی کھلی حجت کی رُو سے جسے زندہ رہنا چاہیے ، وہی زندہ رہے اور یقینا اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔“ ( تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ، سورۃ البقرۃ آیت ۷۳، جلد اوّل صفحہ ۵۱۶) (The Encyclopaedia Britannica, under word: "Jews", Vol:15, Page:402)