صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 131 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 131

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۳۱ ۶۴ - کتاب المغازی زبان عربی کا ایک قاعدہ ہے جس کا تعلق سیاق کلام ہے۔یہ قاعدہ اطناب دایجاز کا ہے۔اطناب کے معنی ہیں بات پھیلا کر بیان کرنا۔طنب خیمہ کی قناتیں پھیلا کر باندھنے والی رسی کو کہتے ہیں۔اس کی جمع اطناب ہے اور اسی سے مصدر اطناب (پھیلانا) ہے۔اس اصطلاح کے مقابل کی اصطلاح ایجاز ہے جس کے معنی ہیں اختصار سے بات کرنا۔یہ لفظ وَجُز سے ہے جس کے معنی ہیں جلدی سے دے دینا، سمجھا دینا۔وَجَزُ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی عطاء اور داد و دہش میں جلدی کرتا ہے۔(لسان العرب۔طنب، وجز) اطناب و اینجاز کے دو اسلوب بیان۔کلام کے موقع ومحل کی نسبت سے استعمال ہوتے ہیں۔جہاں تفصیل کی ضرورت نہیں وہاں ایجاز اور جہاں تفصیل کی ضرورت ہو وہاں اطناب اختیار کیا جاتا ہے۔زیر شرح آیات میں دونوں طریق اختیار کئے گئے ہیں۔چونکہ فَقُلْنَا اضْرِبُوہ میں خطاب ملائکتہ اللہ سے ہے جن کے سپرد عقاب الہی کو جاری کرنا ہے اور جو مورد العطاس وحی ہونے کی وجہ سے مشیت الہی کی تفصیلات سے آگاہی رکھتے ہیں۔اس لئے انہیں خطاب کرنے کا موقع ایجاز کا ہے جو لوگ وحی الہی کے انداز سے واقف ہیں وہ محل ایجاز کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔بعض وقت وحی لفظ غایت درجہ مختصر ہوتی ہے۔ایک دو کلمے بلکہ صرف اشارے سے بھی قلب و ذہن میں ایک وسیع مضمون برقی رو کی طرح پھیل جاتا ہے۔ملائکتہ اللہ سے خطاب ایجاز کا تقاضا کرتا تھا۔اس لئے آیت فَقُلْنَا اضْرِبُوہ میں ایجاز“ ہے اور جب خطاب ان حیلہ جو انسانوں سے ہوا جو مختلف بہانوں سے اوامر شریعت الہیہ ٹالنے کے خوگر ہوتے ہیں تو اس وقت کلام میں اطناب کا طریق اختیار کیا گیا ہے۔چنانچہ قتل نفس کی آیت سے ماقبل آیات میں بسط ہے جن میں بنی اسرائیل کے ذبیحہ بقرہ سے متعلق حکم کا ذکر ہے۔سوالات و جوابات سے ظاہر کیا گیا ہے کہ بہانہ ساز انسان کس طرح حکم کی تعمیل کو ٹالتا چلا جاتا ہے۔ان آیات میں اسلوب اطناب سے یہی امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ نفس کے عذروں کا سلسلہ لمبا ہوتا ہے جو اُن سے بچتا ہے شریعت پر عمل کرنا اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور جو نہیں بچتا اس کے لئے عمل کرنا دشوار۔ذبیحہ بقرہ کی آیات سے ماقبل یہ بتایا ہے کہ تقویٰ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ احکام شریعت کی ظاہری پابندی کے ساتھ ان کے مقاصد مد نظر رکھے جائیں۔اگر صرف ظاہر پر زور دیا گیا اور مقصد نظر انداز کر دیا تو نقال بندروں کی سی کیفیت ہو جائے گی اور اس نقالی سے تقویٰ کی صحیح کیفیت پیدا نہ ہوگی۔فرماتا ہے: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدُوا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُم كُونُوا قِرَدَةً خَسِبِيْنَ (البقرة: 14 - حدود توڑنے والے یہودیوں کو ظاہر پرستی کام نہ آئی اور تقلید امی پر مبنی ایمان ان کے لئے نجات کا موجب نہ ہوا کہ وہ تجلیات الہیہ کے مشاہدات سے محروم تھے۔ایمان اسی وقت زندہ ایمان کا ذریعہ ہوتا ہے جب انسان کو الہی تجلیات کا مشاہد ہ ہو۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور یقینا تم ان لوگوں کو جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے سبت کے بارہ میں تجاوز کیا تو ہم نے اُن سے کہا کہ ذلیل بندر بن جاؤ۔“