صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 130
حيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی امراض نفس ہیں۔سنت اللہ اسی طرح جاری ہوئی ہے کہ زہریلے مواد مختلف ذرائع سے ظاہر کئے جاتے ہیں اور پھر اُن کا مداوا دو طریق سے ہوتا ہے۔شریعت حقہ کے ذریعہ یا تقدیر الہی مواخذہ کی شکل میں نازل ہو کر ان کا قلع قمع کر دیتی ہے۔فقلنا اضْرِبُوهُ سے مراد یہ ہے کہ (اول) ہم نے ملا ئکتہ اللہ کو کہا کہ واقعہ قتل نفس کو حرکت دو، اس نفس کے بعض متعلقین کے ذریعہ سے۔تا بد قماش لوگ کیفر کردار کو پہنچیں۔( دوم ) ہم نے احکام شریعت نازل کر کے (مَا كُنتُم تَكْتُمُونَ ) باطنی امراض نفس کا علاج اس نفس کی قوتوں ہی کے ذریعہ سے کیا ہے تا بدی کے میلانات کی اصلاح اُن کے مقابل کے نیک میلانات سے ہو۔فقلنا اضربوہ میں خطاب ملائکہ اللہ سے ہے اور الفاظ كَذلِكَ يُحْيِ اللَّهُ الْمَوْتی میں اپنی سنت مستمرہ کا ذکر فرمایا ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے: ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم۔واقعہ قتل نفس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے اور قساوت قلبی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ وہ پتھروں کی مانند ہیں۔لیکن شریعت اسلامی کے ذریعہ احیاء کا معجزہ دکھایا جائے گا کہ انہی پتھروں سے سوتے پھوٹیں گے، چشمے جاری ہوں گے اور سخت دل خشیت الہی سے نرم ہوں گے جيسا كه يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللہ میں اشارہ ہے۔اس سیاق کلام میں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی شرح مذکورہ بالا ٹھیک بیٹھتی ہے۔کیونکہ انصاری عورت کی ہتک اور انصاری مرد کا قتل ایسے فتنہ کا موجب ہوا جس میں دیت کا سوال بھی اٹھا اور پھر وہ ہنگامہ آرائیوں کے ایک طویل سلسلہ کا موجب بن گیا جس طرح نخلہ کا واقعہ بنا تھا اور یہودیوں کی ہنگامہ آرائیوں کے تعلق میں ملائکتہ اللہ کو اسی طرح فَقُلْنَا اضْرِبُودُ کا حکم ہوا جس طرح قریش مکہ کی ہنگامہ آرائیوں کے تعلق میں فَاضْرِبُوا فَوقَ الْأَعْنَاقِ کا حکم ہوا تھا۔فرماتا ہے: اِذْ يُوحَى رَبُّكَ إِلَى الْمَلائِكَةِ رَبِّي مَعَكُمْ فَتَبْتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَألْقِى فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَ مَنْ يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ذَلِكُمْ فَذُ وَقُوهُ وَ آنَ لِلْكَفِرِينَ عَذَابَ النَّارِ ه (الأنفال: ۱۳ تا ۱۵) دونوں گروہوں (مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا) کفار و یہود نے لڑائی کی آگ بھڑ کائی اور دونوں کا انجام آسمانی تقدیر سے ایک ہی صورت میں تکمیل پایا اور احیاء موتی کا عظیم الشان کام بھی انہی ہنگامہ آرائیوں کے درمیان اپنی تکمیل کو پہنچا۔عربی سیاق کلام کو سمجھنے کے لئے عربی قواعد سے واقفیت ضروری ہے۔صحابہ کرام وغیرہ کو یہ ضرورت نہ تھی کیونکہ وہ اپنی زبان سے خوب واقف تھے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: (یاد کرو) جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔پس وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں انہیں ثبات بخشو۔میں ضرور ان لوگوں کے دلوں میں جنہوں نے کفر کیا، رُعب ڈال دوں گا۔پس (ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے جوڑ جوڑ پر ضربیں لگاؤ۔یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی سخت مخالفت کی اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو یقینا اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔یہ ہے (تمہاری پاداش) پس اسے چکھو اور ( جان لو کہ یقیناً کافروں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔"