صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 129 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 129

حيح البخاری جلد ۸ ۱۲۹ ۶۴ - کتاب المغازی غرض آیت فَقُلْنَا اضْرِبُوہ میں ضمیر (6) واقعہ قتل نفس کی طرف پھیرنے کی صورت میں اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے (ملائکہ کو ) حکم دیا کہ اس واقعہ میں حرکت پیدا کر و اور اُبھارو۔اور جملہ مَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ کی طرف پھیرنے کی صورت میں آیت کے یہ معنی ہیں کہ ان کے پوشیدہ جذبات بغض و عداوت کو حرکت دو کہ وہ ظاہر ہوں تا اُن کا علاج ہو یا اگر وہ بھڑکیں تو دشمن سزا پائے۔جب تک بیماری چھپی رہے اور زہریلے مواد ظاہر نہ ہوں، مرض کا علاج نہیں ہو سکتا۔ایک قاعدہ یہ ہے کہ جب اضافتیں ایک سے زیادہ جمع ہو جائیں تو ان میں سے بعض مقدر کر دی جاتی ہیں۔عربی زبان کے اس قاعدہ کی بھی مثالیں بکثرت ہیں اور عرب اپنی زبان کے ساتھ مانوس ہونے کی وجہ سے فوراً معلوم کر لیتا ہے کہ کونسا مضاف یا مضاف الیہ کسی کلام میں حذف ہے۔کامل مبر دنے حذف اضافت سے متعلق ایک مستقل باب باندھا ہے اور اس کی مثالیں دی ہیں۔بِبَعْضها میں بھی ایک اضافت محذوف ہے۔قتل نفس کی صورت میں اقرباء مقدر ہے۔یعنی اِضْرِبُوهُ بِبَعْضِ أَقْرِ بَائِهَا: نفس مقتول کے رشتہ داروں کے ذریعہ سے اس واقعہ کو حرکت دو اور مَا كُنتُم تَكْتُمُونَ کی صورت میں لفظ قوی مقدر ہو گا یعنی نفس کی قوتیں تحریک میں لاؤ کہ نفس کی بیماریوں کا علاج نفس کے اندر ہی موجود ہے۔غضب کا علاج حلم ، حرص و طمع کا علاج سخاوت، انتقام کا علاج عفو ہے۔در حقیقت نفس بشر یہ اضداد کا ایک پیکر پنہاں ہے۔مثبت و منفی قوتوں کا مجموعہ اور امراض نفس کا علاج اس کے باطنی قومی کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے۔اسی اصل پر شریعت الہیہ کی بنیاد ہے اور اس کے تمام احکام نفی و اثبات، نہی و امر کی شکل میں ہیں۔بری نظر سے نہ دیکھو، غض بصر اور استخفاء سے کام لو۔كَذَلِكَ يُنِي اللهُ الْمَوْلى : اللہ تعالیٰ اسی طریق سے مردوں کو زندہ کیا کرتا ہے۔فَقُلْنَا اضْرِبُوہ میں (ہ) کی ضمیر مَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ کی طرف پھیرنے سے اس فقرہ کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے کہا کہ امراض نفس کا قلب ماہیت قوی نفسیہ ہی کے ذریعہ سے کرو۔دو مضافوں میں سے ایک مضاف مقدر اور ضمیر (ها) کا اسم ظاہر کرنے کی صورت میں جملے کی شکل یہ ہوگی: اضْرِبُوا (مَا تَكْتُمُونَ) بِقُوَى النَّفْسِ بَعْضِهَا بِبَعْضٍ كَذَلِكَ يُحْيِ اللهُ الْمَوْلَى لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ۔یعنی جو پیاریاں تم چھپائے ہوئے ہو، انہیں نفس کی قوتوں کے ذریعہ سے بعض کو بعض کے ساتھ تبدیل کرو، اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کیا کرتا ہے۔تا کہ تم عقل سے کام لو۔سیاق کلام کا موضوع یہی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت سے قبل ایمان مُردہ ہوتا ہے پھر وہ طوری قسم کی تجلی سے زندہ کیا جاتا ہے۔ماتكتُمُون کا جملہ بار بار قرآن مجید میں امراض نفس کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔کے سورۃ البقرۃ کے دوسرے رکوع میں فرماتا ہے: فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ( البقرة: 1) ان کے دلوں میں بیماری ہے (جس کے علاج سے وہ غفلت برت رہے ہیں اور احکام الہی کی نافرمانی کر رہے ہیں ) نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا ہے۔یہاں بیماری سے مراد ( الكامل فى اللغة والأدب، باب ۱۵ جزء اول صفحه ۱۲۴ - باب ۵۳ جزء ثالث صفحه ۲۱۹، ۲۲۰) دیکھئے : البقرة : ۳۴، المائدة : ۱۰۰، الأنبياء : ١١١، النور : ٣٠