صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 128 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 128

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۲۸ ۶۴ - کتاب المغازی جابجا موجود ہے۔مذکورہ بالا دونوں آیات میں لفظی قول مراد نہیں بلکہ مراد وہ تقدیر الہی ہے جو احکام الہی کی نافرمانی کی وجہ سے طبعی نتائج کی صورت میں جاری ہوئی۔یہود نے احکام تو رات کو پس پشت ڈالا اور نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں غیر قوموں کی نقالی کرنی پڑی اور ملک میں فتنہ و فساد برپا کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں دنیا میں منتشر کر دیا گیا۔اسی اسلوب کلام کے مطابق آیت فَقُلْنَا اضْرِبُوہ میں فقلنا سے مراد وہ تقدیر الہی ہے جو یہودِ مدینہ کے بارے میں ملائکتہ اللہ کی تحریکات سے ظہور پذیر ہوئی۔اضْرِبُوہ میں (ہ) کی ضمیر کسی قاتل یا مقتول کی طرف عود نہیں کرتی کیونکہ اذ قتلتم کے الفاظ میں قاتل قوم کے افراد مخاطب کئے گئے ہیں۔صیغہ جمع مخاطب کی طرف ضمیر (0) جو مفرد ہے کسی صورت میں نہیں پھر سکتی۔بلکہ (ھن ) ضمیر جمع ہونی چاہیے تھی اور نہ یہ ضمیر مقتول کی طرف پھر سکتی ہے کیونکہ آیت میں مقتول نفس کو قرار دیا گیا ہے جو مؤنث مفرد ہے جس کے لئے ضمیر (ها) ہونی چاہیے۔غرض آیت فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ میں نہ قاتلوں کے مارنے یا قتل کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے نہ نفس مقتول کے۔اس کے علاوہ قاتل کی سزا ضرب نہیں بلکہ قتل ہے۔لہذا (6) کی ضمیر واقعہ قتل نفس کی طرف اسی قاعدہ کے تحت پھرے گی جو اوپر بیان ہوا ہے۔ضرب کے معنی مارنے کے علاوہ اور بھی ہیں ان میں سے ایک معنی آمیزش کے بھی ہیں۔چنانچہ ضَرَبَ الشَّيْء بِالشَّيْء کے معنی ہیں خَلطه یعنی ایک شئے دوسری شئے سے ملا دی اور دوسرے معنی شراب کی تیزی کو پانی ملا کر کم کر دینے کے ہیں۔ضَرَبَ الْحَمْرَ بِالْمَاءِ أَيْ خَفَّفَ حِذَتَھا۔تیسرے معنی ہیئت و شکل تبدیل کر دینے کے ہیں۔ضَرَبَ الْخَاتَمَ أَى صَاغَهُ یعنی سنار نے سونا ڈھال کر انگوٹھی بنائی۔نیز کہتے ہیں: ضَرَبَ الدِرْهَم : سَبَكَهُ وَطَبَعَه : چاندی ڈھال کر درہم بنایا اور اس پر مہر لگائی۔قلب ماہیت کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور تعمیر کے معنوں میں بھی۔چنانچہ کہتے ہیں: يُضْرَبُ القراط: راستہ بنایا جائے گا اور یہ لفظ حرکت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔کہتے ہیں : ضَرَبَ في الْأَرْضِ زمین میں حرکت کی ، چلا۔ضَرَّبَهُ فِي الْحَرْبِ : حَرَّضَهُ یعنی اُسے جنگ کے لئے اکسایا اور تحریک کی۔یہ لفظ تفرقے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے کہتے ہیں: ضَرَبَ الدَّهْرُ بَيْنَهُمْ أَى فَرَّقَهُمْ وَبَدَّدَ شَمْلَهُمْ یعنی زمانے نے انہیں جدا اور پراگندہ کر دیا۔لفظ ضرب کے معنی دراصل حرکت کے ہیں۔ضَرَبَاب النَّبضِ اور ضَرَبَانُ الْقَلْبِ دل کی دھڑکن کو حرکت کی وجہ سے ہی کہا جاتا ہے۔ضَرَبَ فِي الْأَرْضِ کے معنی ہیں زمین میں حرکت کی۔مارنے سے بھی حرکت ہوتی ہے اور حرکتوں کے معنوں میں لفظ ضَرْبٌ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔کہتے ہیں: ضَرَبَ الحَاسِبُ كَذَا فِي گذا: حساب کرنے والے نے ایک عدد کو دوسرے عدد سے بار بار ملا کر اسے بڑھایا۔ضرب کی یہ اصطلاح علم ریاضیات میں مشہور ہے ، اس میں حرکت پیہم کا مفہوم پایا جاتا ہے۔أقرب الموارد ضرب) (لسان العرب ضرب) (معجم اللغة العربية المعاصرة ضرب)