صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 127 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 127

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۲۷ ۶۴ - كتاب المغازی یعنی دیئے ہیں ان کی مضبوطی سے پابندی کرو اور (اس کے علاوہ) حکم کا جو مقصد و مدعا ہے اسے مد نظر رکھو۔ یہی اسم موصول (ما) اور اس کا صلہ (6) آیت وَاللهُ مُخْرِجٌ مَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ (البقرة : ۷۳) میں ہے ! تكتمون میں ضمیر (8) مقدر ہے۔ جو تم چھپائے ہوئے ہو اللہ اسے نکالنے والا ہے۔ یعنی وہ واقعہ قتل نفس جس میں تم نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی، دلوں کی اندرونی کیفیت کے ظاہر ہونے کا ذریعہ بنے گا تا ان کا کا علاج ہوکر اصلاح ہو یہ ہو یا سزا ملے۔ كَذلِكَ يُحْيِ اللهُ الْمَوْتَى وَ يُرِيكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (البقرۃ: ۷۴) کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ روحانی مردوں کے احیاء میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ اس لئے وہ تمہیں اپنے نشانات دکھائے گا تا تم سمجھو۔ ضمیر (هو) اور (3) بعض دفعہ جملے کے مفہوم کی طرف بھی عود کرتی ہے جیسا کہ آیت وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادْرَتُمْ فِيهَا کے لحاظ سے فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ میں ضمیر (8) (8) واقعہ قتل نفس کی طرف بھی عود کرتی ہے اور ما كنتُمْ تَكْتُمُون کی طرف بھی۔ اس اسلوب بیان کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت ہیں۔ جیسا کہ مشہور آیت وَلَكِنْ شُبَّهَ لَهُمُ (النساء : ۱۵۸) میں ضمیر مستقر (هُوَ ) جو شبہ فعل ماضی مجہول میں ہے وہ واقعہ قتل و صلب کی طرف عود کرتی ہے جس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ یہ واقعہ مشتبہ کر دیا گیا جس سے حضرت مسیح الکلام جو زندہ تھے مردہ سمجھے گئے۔ اسی طرح آیت وَ إِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (النساء : ١٦٠) میں یہ کی ضمیر واقعہ قتل کی طرف عود کرتی ہے یعنی تمام اہل کتاب مسیح کے واقعہ قتل و صلیب پر یقین رکھتے ہیں۔ یہود بھی اور عیسائی بھی اور یہ یقین دونوں کے ایمانیات کا جزو ہے۔ قَبْلَ مَوْتِہ کی ضمیر ان (أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ میں اَحَدٍ کی طرف جو مقدر ہے عود کرتی ہے۔ غرض ضمیر (هو) یا (3) کبھی اسم کی طرف اور کبھی واقعہ کی طرف عود کرتی ہے۔ آیت فَاخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ (البقرۃ:۳۷) {یعنی اس نے انہیں اس سے جس میں وہ تھے نکال دیائی میں اسم موصول (ما) اور اس کا صلہ (8) جو فیہ میں ہے، اس کا تعلق آیت اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا ( البقرۃ : ۳۶) {یعنی تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو با فراغت کھاؤ کے مفہوم سے ہے یعنی سکونت جنت اور حالت خوشحالی سے ان دونوں کو نکال دیا۔ قَالَ (اس نے کہا ) قنا (ہم نے کہا) کے الفاظ قرآن مجید میں بعض دفعہ اجرائے تقدیر الہی کے مفہوم میں وارد ہوئے ہیں جس کے لئے ضروری نہیں کہ لفظ بھی بولے جائیں۔ جیسے آیت فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَسِينَ (البقرۃ:۶۶) یعنی ہم نے یہودیوں سے کہا: ذلیل بندر ہو جاؤ۔ یا آیت وَ قُلْنَا مِن وَ قُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لبَنِي إِسْرَاءِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا (بنی اسرائیل : ۱۰۵) { اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ موعودہ سر زمین میں سکونت اختیار کرو۔ پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تمہیں پھر اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔ میں قال یا قلنا کا یہ مخصوص اسلوب قرآن مجید میں