صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 126
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی رویه (ان کے خلاف) اُلٹی راہ چلے گا ہم بھی اسے اسی راہ کے سپرد کر دیں گے جسے اس نے خود اختیار کیا ہے اور اسے جہنم میں جھونکیں گے اور اس رویے کا انجام بہت ہی بُرا ہے۔سورة الحشر کی آیت ذلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُوا اللهَ وَرَسُولَہ کا بھی یہی مفہوم ہے کہ یہودی قبائل نے اللہ اور رسول کی راہ چھوڑ کر اس کے برعکس معاندانہ رویہ اختیار کیا، اس لئے انہوں نے اس کا برا انجام دیکھا۔ان کا یہ معاندانہ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوا، جن کا ذکر مع انجام سورۃ البقرۃ میں تفصیل سے موجود ہے۔ان کا سب سے بڑا جرم جیسا کہ بتایا جا چکا ہے آیت تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (البقرة :۸۶) اور آیت وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيْطِيْنُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَنَ ( البقرة : ۱۰۳) میں بیان ہوا ہے۔یعنی نقض معاہدہ، ارتکاب محرمات، فتنه و شرانگیزی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ریشہ دوانی اور آپ کے دشمنوں سے ساز باز اور قتل نفس اور مطالبہ دیت والے واقعہ سے متعلق یہ آیت بھی ہے : وَاذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَاذْرَ تُم فِيهَا وَاللهُ مُخْرِجُ مَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ ، ، بِبَعْضِهَا كَذلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ) (البقرة: ۷۴،۷۳) حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ان آیات میں مذکور قتل نفس سے انصاری خاتون کی بے عزتی پر حمایت کرنے والے صحابی کے قتل کا واقعہ مراد لیا ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نوراللہ مرقدہ نے بھی ان سے اتفاق کر کے تفصیل سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ انفرادی نہ تھا بلکہ ایک منصوبہ کے تحت ظہور میں آیا جو کعب بن اشرف، ابو رافع وغیرہ سرغنوں کی فتنہ خیزی کے نتیجہ میں رونما ہوا تھا ہے جس کی وجہ سے الفاظ وَإِذْ قَتَلْتُم نفسا میں یہودی اس شرارت کے ذمہ دار قرار دیئے گئے ہیں۔قتلتُم سے خطاب صیغہ جمع کا ہے۔دراصل فتنہ کی یہ پہلی چنگاری تھی جو ملائکتہ اللہ کی تحریک سے فروزاں ہوئی اور ہنگامہ ہائے ما بعد کا باعث بنی۔اگر قواعد صرف ونحو، معنی و بیان اور اسلوب قرآن مد نظر رکھے جائیں تو ان آیات کی تطبیق مذکورہ بالا واقعہ سے ہو جائے گی۔ضمیر مذکر (3) کا اسم موصول (ما) بطور صلہ استعمال ہونا ایک معروف قاعدہ ہے۔جیسا کہ ما ہم مَا عَلَيْهِ۔مَا إِلَيْهِ اور مَا فِيْهِ میں۔زیر تشریح آیات سے پہلے رکوع میں آیت خُذُوا مَا أَتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فيه(البقرة: ١٤) وارد ہوئی ہے اور اس میں بھی (ما) کا صلہ ضمیر مذکر (3) ہے۔یعنی ہم نے جو حکم تمہیں ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " تم گناہ اور ظلم کے ذریعہ ان کے خلاف ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہو۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ”اور انہوں نے پیروی کی اس کی جو شیاطین سلیمان کے ملک کے خلاف پڑھا کرتے تھے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” پس ہم نے کہا: (کھوج لگانے کی خاطر ) اس جیسی اور واردات پر اس (واقعہ ) کو چسپاں کرو۔اسی طرح اللہ مردوں کو ان کے قاتلوں کا مواخذہ کر کے) زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنے نشان دکھاتا ہے تا کہ تم عقل کرو۔“ ( تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مصلح موعودؓ ، سورۃ البقرۃ آیت ۷۳، جلد اول صفحہ ۵۱۸ تا۵۲۴)