صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 126 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 126

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۲۶ ۶۴ - كتاب المغازی ان کے خلاف ) الٹی راہ چلے گا ہم بھی اسے اسی راہ کے سپرد کر دیں گے جسے اُس نے خود اختیار کیا ہے اور اسے جہنم میں جھونکیں گے اور اس رویے کا انجام بہت ہی بُرا ہے۔ سورۃ الحشر کی آیت ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُوا اللهَ وَرَسُولَہ کا بھی یہی مفہوم ہے کہ یہودی قبائل نے اللہ اور رسول کی راہ چھوڑ کر اس کے برعکس معاندانہ رویہ اختیار کیا، اس لئے انہوں نے اس کا برا انجام دیکھا۔ ان کا یہ معاندانہ رویہ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوا، جن کا ذکر مع انجام سورۃ البقرۃ میں تفصیل سے موجود ہے۔ ان کا سب سے بڑا جرم جیسا کہ بتایا جا چکا ہے آیت تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (البقرة : ۸۶) اور آیت وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيْطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْنَ ( البقرة : ١٠٣) رة:۱۰۳) ۲ میں بیان ہوا ہے۔ یعنی نقض ۔ نقض معاهده، ارتکاب محرمات، فتنه و شرانگیزی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ریشہ دوانی اور آپ کے دشمنوں سے ساز باز اور قتل نفس اور مطالبہ دیت والے واقعہ سے متعلق یہ آیت بھی ہے : وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادْرَعْتُمْ فِيهَا وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ ) فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذَلِكَ يُحْيِ اللَّهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ) (البقرة : ۷۳، ۳۷۴ حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ان آیات میں مذکور قتل نفس سے انصاری خاتون کی بے عزتی پر حمایت کرنے والے صحابی کے قتل کا واقعہ مراد لیا ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نور اللہ مرقدہ نے بھی ان سے اتفاق کر کے تفصیل سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ انفرادی نہ تھا بلکہ ایک منصوبہ کے تحت ظہور میں آیا جو کعب بن اشرف ابو رائع وغیرہ سرغنوں سرغنوں سرخ کی کی فتنہ خیزی کے نتیجہ میں رونما ہوا تھا نامے کے جس جس ں کی وجہ سے الفاظ وَإِذْ قَتَلْتُم نفسا میں یہودی اس شرارت کے ذمہ دار قرار دیئے گئے ہیں۔ قتلتُم سے خطاب صیغہ جمع کا ہے۔ دراصل فتنہ کی یہ پہلی چنگاری تھی جو ملائکہ اللہ کی تحریک سے فروزاں ہوئی اور ہنگامہ ہائے ما بعد کا باعث بنی۔ اگر قواعد صرف و نحو، معنی و بیان اور اسلوب قرآن مد نظر رکھے جائیں تو ان آیات کی تطبیق مذکورہ بالا واقعہ سے ہو جائے گی۔ ضمیر مذکر (8) کا اسم موصول ( ما ) بطور صلہ استعمال ہونا ایک معروف قاعدہ ہے۔ جیسا کہ مَا بِهِ، مَا عَلَيْهِ۔ مَا إِلَيْهِ اور مَا فِيهِ میں۔ زیر تشریح آیات سے پہلے رکوع میں آیت خُذُوا مَا آتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ (البقرۃ: ۶۴) وارد ہوئی ہے اور اس میں بھی (ما) کا صلہ ضمیر مذکر (8) ہے۔ یعنی ہم نے جو حکم تمہیں ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : " تم گناہ اور ظلم کے ذریعہ ان کے خلاف ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہو۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع: ”اور انہوں نے پیروی کی اس کی جو شیاطین سلیمان کے ملک کے خلاف پڑھا کرتے تھے۔“ ترجمه حضرت ۔ رت خليفة المسيح الرابع: «پس ہم نے کہا: (کھون کھوج لگانے کی خاطر ) اس جیسی اور واردات پر اس (واقعہ ) کو چسپاں کرو۔ اسی طرح اللہ مردوں کو ( ان کے قاتلوں کا مواخذہ کرکے) زندہ کرتا ہے اور مہیں اپنے نشان دکھاتا ہے تا کہ تم اہے تاکہ تم عقل کرو۔“ (تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مصلح موعود، سورة البقرة آیت ۷۳، جلد اول صفحہ ۵۱۸ تا ۵۲۴)