صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 125 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 125

حیح البخاری جلد ۸ ۱۲۵ ۶۴ - کتاب المغازی کرنے کی نیت سے ایک اسیر حضرت عمرو بن امیہ کو آزاد کر دیا تھا۔جب حضرت عمر د مدینہ کو لوٹے تو راستہ میں قبیلہ بنو عامر کے دو شخص ان سے ملے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قبیلے سے عہد و پیمان تھا جس کا حضرت عمرو کو علم نہ تھا، یہ خیال کر کے کہ وہ دونوں اس قبیلے کی شاخ سے ہیں جس نے واقعہ بئر معونہ میں صحابہ کو قتل کر دیا تھا۔ان دونوں کو بحالت خواب قتل کر دیا اور جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ کو اُن کے اس فعل سے رنج ہوا اور آپ نے مقتولین کے وارثوں کو دیت دی۔قبیلہ بنو عامر یہود بنونضیر کا بھی حلیف تھا، اس لئے میثاق مدینہ کی رو سے اور قدیم دستور کے مطابق بنو نضیر کو بھی دیت میں شریک ہونا چاہیے تھا جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مطالبہ فرمایا اور بنو نضیر نے آپ کو اپنی بستی میں آنے کی دعوت دی۔آپ اُن کے ہاں گئے اور یہ محسوس کر کے کہ وہ آپ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں وہاں سے چلے آئے۔لے (فتح الباری جزءے صفحہ ۴۱۳، ۴۱۴) خلاصہ ہے ابن اسحاق کی روایت کا جسے اکثر مورخین غزوات نے قبول کیا ہے۔چونکہ واقعہ بئر معونہ جنگ اُحد کے بعد ہوا اور عروہ بن زبیر کی روایت کے مطابق غزوہ بنو نضیر جنگ اُحد سے پہلے ہوا تھا۔اور مغازی کے راویوں میں سے عروہ بن زبیر امام بخاری کے نزدیک زیادہ معتبر ہیں۔اسی لئے عنوانِ باب میں انہی کی روایت کا حوالہ دیا گیا۔بنو عامر کے دو مقتولین کی دیت کا سوال بوقت غزوہ بنی نضیر اُٹھ ہی نہیں سکتا تھا۔امام ابن حجر" کے نزدیک بھی ابن مردویہ والی روایت صحت کے زیادہ قریب ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۱۴) امام بخاری نے غزوہ بنو نضیر کے اسباب سے متعلق مذکورہ بالا روایات نظر انداز کر دی ہیں اور سورۃ الحشر کا حوالہ دیا ہے جس میں یہودیوں کے جلا وطن کئے جانے کی وجہ ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يُشَاقِ اللهَ فَإِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (الحشر :(۵) یعنی یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کی اور جو اللہ کا باغی ہوتا ہے تو اللہ کی سزا بھی نہایت سخت ہوتی ہے۔لفظ مُشَاقَةٌ، شَقَى سے باب مفاعلہ ہے جس کے معنی عداوت مخالفت اور بغاوت کے ہیں۔شقی کے معنی طرف کے ہیں اور شقی کے معنی ہیں چاک کرنا اور شاقہ کے معنی ہیں خَالَفَه وعَادَاهُ وَحَقِيْقَتُهُ أَن يَأْتِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي شِيّ غَيْرِ شِقَ صَاحِبِهِ مُشَاقَةً حقیقت میں دو ساتھیوں میں سے ایک کا دوسرے سے الگ ہو جانا اور مختلف سمتیں اختیار کرنا ہے۔(اقرب الموارد - شق) آیت شَاقُوا اللهَ وَرَسُولَہ سے یہ مراد ہے کہ اللہ اور رسول سے علیحدگی اختیار کر کے ان کے مد مقابل ہو گئے۔اس باب سے لفظ شقاقی اور مشاقہ ہے جو قرآن مجید میں علیحدگی اور دشمنی، مخالفت اور بغاوت کے معنوں میں وارد ہوا ہے۔فرماتا ہے: وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الهُدى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيدًان (النساء: ۱۱۶) یعنی جو شخص بھی ہدایت پوری طرح واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت ہی کرتا چلا جائے گا اور مومنوں کا راستہ چھوڑ کر ل (السيرة النبوية لابن هشام ، أمر إجلاء بني النضير ، جزء ۳ صفحه (۱۴۳)