صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 124 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 124

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۲۴ ۶۴ - کتاب المغازی دوسرے پر حملہ سمجھا جاتا۔اس لئے جب ایک قبیلے کی طرف سے نقض معاہدہ ہوا اور اسے سزا ملی تو دوسرے قبیلے نے جہاں قدیم باہمی عداوت کی وجہ سے دخل نہیں دیا وہاں معاہدہ کی رو سے بھی اسے دخل دینے کی گنجائش نہیں تھی۔موسیٰ بن عقبہ کی روایت نمبر ۲۰۲۸ میں غایت درجہ اختصار ہے لیکن اس کے الفاظ سے بھی پایا جاتا ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے ساتھ دو قسم کا سلوک بلا وجہ نہیں تھا۔اس جدا گانہ سلوک سے ظاہر ہے کہ معاہدات کی رو سے دونوں کی ذمہ داریوں میں فرق تھا۔جنگ بدر کے بعد بنو نضیر نے شہری دفاع سے متعلق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی بلکہ ان کا سردار کعب ہی درحقیقت اُحد کے حملہ کا محرک ہوا جیسا کہ کعب کے واقعہ قتل کی تفصیلات سے ظاہر ہے۔(دیکھئے تشریح باب ۱۵) ابن ہشام نے بنو نضیر کی جلاوطنی کا سبب بیان کیا ہے کہ انہوں نے دیت دینے سے انکار کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ تیار کیا تھا۔یہ ایک ضمنی سبب تو ہو سکتا ہے لیکن اصل سبب نہیں۔ابن ہشام کی اس بارے میں روایت مخدوش ہے اور امام بخاری نے عنوانِ باب میں اس کا حوالہ دے کر اسے نظر انداز کیا ہے۔اصل سبب وہی ہے جو موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں مذکور ہے اور سورۃ الحشر کی آیات میں بیان ہوا ہے۔مستشرقین کو بھی دیت والی وجہ غیر معقول قرار دینا پڑی ہے۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چکی کا پتھر پھینکنے کی تدبیر بعض افراد کا جرم تھا، وہ وقوع میں نہیں آیا۔دیت کی ادائیگی سے انکار بے شک میثاق مدینہ کی رو سے قابل مواخذہ تھا مگر اس سے بڑھ کر اُن کا جرم یہ تھا کہ غزوۂ احد کے محرک بنے۔اس میں کفار قریش کو مدد دینے کا وعدہ کیا اور اس میں اپنے حلفاء کی مدد سے پہلو تہی کی اور پھر نقض معاہدہ کا اعلان کر کے قلعہ بند ہو کر اُن سے لڑنے لگے۔ان جرموں کی موجودگی میں دیت کا انکار اور منصوبہ قتل والا جرم بنو نضیر کی سزا کا ایک ضمنی سبب تو ہے مگر اصل سبب نہیں کیونکہ میثاق مدینہ میں صراحت ہے کہ افراد یا خاص خاندان کے جرم کی سزا صرف جرم کرنے والے افراد یا خاندان تک ہی محدود ہوگی۔پس یہ معقول بات نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انفرادی جرم کی وجہ سے سارے قبیلہ کو مستوجب سزا قرار دیا ہو۔لاریب قبیلہ بنو نضیر کی جلا وطنی بھی سنگین جرموں کی پاداش تھی۔جسے انہیں اسی طرح قبول کرنا پڑا جس طرح ان سے پہلے بنو قینقاع کو۔اسی طرح بنو قریظہ کا جرم بھی واضح تھا۔تینوں جلا وطنیاں تقریباً ایک ایک سال کے بعد عمل میں آئیں۔اس تعلق میں باب ۳۰ کی تشریح بھی دیکھئے۔مَخْرَجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الرَّجُلَيْنِ: اس فقرے سے روایت محمد بن اسحاق کی طرف اشارہ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بئر معونہ کے واقعہ میں عامر بن طفیل نے اپنی ماں کی نذر پوری ل (السيرة النبوية لابن هشام، أمر إجلاء بنی النضیر ، جزء ۳ صفحه (۱۴۳) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السابع غزوة بني قريظة، صفحہ ۱۳۶)