صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 123
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۲۳ ۶۴ - كتاب المغازی الله قبیلے کو اُن کے حلیف حضرت محمد بن مسلمہ کی نگرانی میں روانہ کیا گیا اور وہ بحفاظت اپنی اپنی سکونتی جگہوں میں پہنچائے گئے۔ اس تعلق میں سیرت خاتم النبیین صلی علم صفحہ ۴۵۷ تا ۴۶۲ نیز ۵۲۲ تا ۵۲۸ بھی دیکھئے۔ بنو نضیر کو جلا وطنی کے وقت اجازت دی گئی تھی کہ سوائے اسلحہ کے جو اثاثہ اور سیم وزر وہ اونٹوں وغیرہ پر لے جاسکتے ہوں، لے جائیں۔ چنانچہ وہ چھوٹی بڑی سب اشیاء اپنے ساتھ لے گئے حتی کہ چھت کی لکڑیاں اور چوکھٹیں بھی ہے جس کی وجہ یہ تھی کہ حسب وصیت موسوی جس کا ذکر کتاب استثناء باب ۶: ۱ تا ۹ میں ہے، یہود دس احکام تو رات چوکھٹوں اور پھاٹکوں پر لکھتے تھے تا وہ ان کے ہمیشہ مد نظر رہیں۔ سے چھتوں کے شہتیروں پر بھی یہ احکام لکھے جاتے۔ اس لئے یہ سب چیزیں ان کے لئے متبرک تھیں۔ یہودی قبائل یثرب تعداد میں کئی تھے جیسا کہ میثاق مدینہ میں بعض کے نام مذکور ہیں۔ ہر قبیلہ میثاق مدینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ بعض خاص معاہدات بھی تھے جن کی رو سے ہر قبیلے پر معین ذمہ داری عائد ہوتی تھی یا اسے خاص مراعات حاصل تھیں۔ مثلاً بنو قریظہ زراعت پیشہ تھے وہ حملے کی صورت میں شرکت جنگ مستثنیٰ سے کتنی تھے اور خون بہا میں اُن پر دیت نصف اور بنو بنون نضیر سے پوری دیت واجب الادا الادا ہوا ہوا کرتی تھی کے بنو نضیر بوقت حملہ دفاع مدینہ کے لئے اسی طرح ذمہ دار قرار دیئے گئے تھے جس طرح اوس و خزرج وغیرہ۔ غزوہ احد کے وقت بنو نصیر کی طرف سے عذر کیا گیا تھا کہ سبت کے ایام ہیں، ہمیں لڑائی جائز نہیں اور یہ بھی عذر کیا گیا کہ مدینہ کے اندر لڑائی ہو تو وہ از روئے معاہدہ لڑائی میں شریک ہونے کے پابند ہیں، باہر کی جنگوں میں شریک ہونے کے ذمہ دار نہیں۔ سے ان کے اس عذر سے ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ اس بارے میں الگ معاہدہ تھا جسے انہوں نے عذر بہانے سے ٹال دیا اور منافقین مدینہ کی طرح اصرار کیا کہ مدینہ کے اندر حملہ آوروں سے مقابلہ کیا جائے۔ قبائل کے ساتھ معاہدات کی مذکورہ بالا صورت سیاسی طور پر بھی اس صورت سے کہ سب ایک ہی معاہدہ میں شامل کئے ، زیادہ مفید تھی کیونکہ مختلف معاہدات کی وجہ سے ہر قبیلے کی ذمہ داری اپنی مصلحت تک ہی محدود رہتی اور ایک قبیلہ کی طرف سے خلاف ورزی کی صورت میں دوسرا قبیلہ اس کے مخصوص معاہدہ کی ذمہ داری سے آزاد تھا۔ اگر ایک ہی معاہدہ ہوتا تو ایک قبیلہ کی طرف سے نقض معاہدہ ہونے پر دوسرا قبیلہ بھی ذمہ دار قرار پاتا ہے اور ایک پر حملہ ا۔ (المغازي للواقدی، غزوة قينقاع، جزء اول، صفحہ ۱۷۸۔ غزوة بني النضير، جزء اول صفحہ ۳۷۴) (السيرة النبوية لابن هشام ، أمر إجلاء بني النضير، جزء ۳ صفحه ۱۴۴، ۱۴۵) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، باب ۶ : هجرة الرسول إلى يثرب و اجلاؤه بني قينقاع والنضير ، صفحہ (۱۳۸) المغازى للواقدي، غزوة الخندق، جزء ۲، صفحه ۴۵۸) ( تاريخ اليهود في بلاد العرب، باب غزوة بني قريظة، صفحہ ۱۴۷، ۱۴۸) ( السيرة النبوية لابن هشام ، حديث مخیریق، جزء ۲ صفحه ۱۵۹) ( تاريخ اليهود في بلاد العرب، باب ۶ : هجرة الرسول إلى يثرب و اجلاؤه بني قينقاع والنضير، صفحہ ۱۳۲)