صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 122 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 122

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۲۲ ۶۴ - کتاب المغازی یہ روایت ابن مردویہ نے بھی بسند صحیح امام زہری نقل کی ہے۔اس کے راوی معمر نہیں اور اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ کفار قریش نے غزوہ بدر سے پہلے عبد اللہ بن اُبی وغیرہ مشرکین مدینہ کو لکھا تھا کہ تمہارا مہاجرین مکہ کو پناہ دینا سارے عرب سے جنگ چھیڑنا ہے جس پر اُن کی نیتیں بگڑ گئیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ قریش مکہ مدینہ والوں کے خیر خواہ نہیں، ان کے درمیان خانہ جنگی بر پا کرنا چاہتے ہیں اور وہ سمجھ گئے اور ان مہاجرین سے تعرض نہیں کیا جن کی حفاظت کی ذمہ داری بنو اوس اور بنو خزرج میں سے مسلمانوں نے لی تھی۔ان سے مایوس لی ہو کر کفارِ قریش نے ان کو لکھا اور اس روایت میں ان کی خط و کتابت کے وہی الفاظ ہیں جو ابو داؤد کی روایت کے ہیں۔مذکورہ بالا روایت کا خلاصہ حسب ذیل ہے: اول: قریش مکہ نے بدر کے وقت یہود کو دھمکی دی کہ اگر وہ مہاجرین سے نہ لڑے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھیں، قریش مکہ ان سے لڑیں گے اور ان کی عورتوں کی عصمت دری کی جائے گی۔دوم: جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ بالا خط و کتابت کا علم ہوا تو آپ نے قبائل یہود سے تجدید معاہدہ کا مطالبہ کیا۔ان میں سے بنو قریظہ نے آپ کی تجویز منظور کرلی اور وہ بدستور مدینہ میں با امن رہنے دیئے گئے اور بنو نضیر نے انکار کیا اور ان سے جنگ ہوئی۔یہی خلاصہ روایت نمبر ۴۰۲۸ کا ہے جو موسیٰ بن عقبہ سے مروی ہے۔امام ابن حجر نے ابن مردویہ والی جس روایت کا حوالہ دیا ہے اس میں تھیں کی جگہ تین تین شخص لائے جانے کا ذکر ہے اور اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ بنو نضیر نے اپنے تین آدمیوں کو خنجروں سے مسلح کیا اور ان سے یہ سمجھوتہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب آئیں تو موقع پا کر وہ قتل کر دیئے جائیں ، ان کا یہ راز فاش ہو گیا۔امام ابن حجر" کے نزدیک غزوہ بنی نضیر کا اصل سبب ان کی یہ غداری تھی۔(فتح الباری جزء کے صفحہ ۴۱۴) سورۃ البقرۃ کی پیشگوئی کہ یہودِ مدینہ میثاق توڑیں گے تو انہیں ایک ایسا دن دیکھنا پڑے گا جس میں انہیں نہ سفارش کام آئے گی اور نہ تاوان اور نہ کوئی مدد ( البقرۃ:۴۹، ۱۲۴) جیسا بنو قینقاع کے حق میں پوری ہوئی بنو نضیر کے حق میں بھی پوری ہوئی۔روایت نمبر ۴۰۲۸ میں یہ ذکر نہیں کہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کس جگہ جلا وطن کئے گئے اور ان دونوں کے جلاوطن کئے جانے میں کتنی مدت تھی۔ان امور کی تفصیل کتب مغازی و تاریخ میں موجود ہے۔بنو قینقاع نے وادی القریٰ اور اور عات اور بنو نضیر نے خیبر میں جانا پسند کیا جو یہودیوں کی زرخیز بستیاں تھیں اور جہاں ان کے باغات اور مستحکم قلعے تھے۔یہ علاقہ وسیع ہے اور یہود کی جگہ جگہ بستیاں تھیں۔ان دونوں کی جلاوطنی کے زمانہ میں زیادہ وقفہ نہ تھا جس کی وجہ سے بعض کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ ان دونوں کی جلا وطنی کا وقت ایک ہی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۱۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قبیلوں کو مہلت دی کہ اپنا لین دین صاف کر لیں اور جو اشیاء فروخت کرنی ہوں وہ فروخت کر لی جائیں۔اول الذکر قبیلے کو ان کے حلیف حضرت عبادہ بن صامت کی نگرانی اور ثانی الذکر