صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 121 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 121

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۲۱ ۶۴ - کتاب المغازی اس لئے نقض معاہدہ اور کھلی بغاوت اور جنگ کی بنا پر وہ مدینہ سے جلاوطن کئے گئے۔ان کے برعکس بنو قریظہ نے تجدید معاہدہ کی پیش کش منظور کی اور وہ مدینہ میں رہنے دیئے گئے جیسا کہ اسی روایت میں مذکور ہے۔عنوانِ باب ، اور روایت میں اختصار ہے جو تفصیل چاہتا ہے اور جو تفصیل ابھی بیان ہوئی ہے ، واقعات پر مبنی ہے۔ابو داؤد کی ایک روایت سے ظاہر ہے کہ قریش مکہ نے غزوہ بدر کے بعد یہود مدینہ کو لکھا کہ تمہیں مہاجرین سے لڑنا ہو گا ورنہ ہم تم سے لڑیں گے۔اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : كَتَبَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ إِلَى الْيَهُودِ إِنَّكُمْ أَهْلُ الحَلْقَةِ وَالْحُصُونِ وَإِنَّكُمْ لَتُقَاتِلُنَّ صَاحِبَنَا أَوْ لَنَفَعَلَنَّ كَذَا وَكَذَا وَلَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَدَم نِسَائِكُمْ شَيْءٍ۔۔۔فَلَمَّا بَلَغَ كِتَابُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْمَعَتْ بَنُو النَّصِيرِ بِالْخَدْرِ فَأَرْسَلُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرُجْ إِلَيْنَا فِي ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ وَلْيَخْرُجْ مِنَّا ثَلَاثُونَ حَبْرًا حَتَّى نَلْتَقِي بِمَكَانِ الْمَنْصَفِ فَيَسْمَعُوا مِنْكَ فَإِن صَدَّقُوكَ وَامَنُوْا بِكَ آمَنَّا بِكَ فَقَصَّ خَبَرَهُمْ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ غَدًا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَتَايْبِ فَحَصَرَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّكُمْ وَاللهِ لا تَأْمَنُونَ عِنْدِى إِلَّا بِعَهْدٍ تُعَاهِدُونَى عَلَيْهِ فَأَبُوا أَنْ يُعْطُوْهُ عَهْدًا فَقَاتَلَهُمْ يَوْمَهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ غَدَا الْغَدُ عَلَى بَنِي قُرَيْظَ بِالْكَتَائِبِ وَتَرَكَ بَنِي النَّفِيرِ وَدَعَاهُمْ إِلَى أَنْ يُعَاهِدُوهُ فَعَاهَدُوهُ فَانْصَرَفَ عَنْهُمْ وَغَدَا عَلَى بَنِي النَّصِيرِ بِالْكَتَائِبِ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى الْجَلَاءِ فَجَلَتْ بَنُو النَّضِيرِ وَاحْتَمَلُوا مَا أَقَلَّتِ الإِبل لا یعنی قریش نے بدر کی لڑائی کے بعد یہود کو لکھا کہ تمہارے پاس ہتھیار اور قلعے ہیں۔تمہیں ہمارے ساتھی سے لڑنا ہو گا ورنہ تمہارے ساتھ یہ یہ کارروائی کی جائے گی اور تمہاری عورتوں کی پازیبوں سے کوئی روک نہیں سکے گا۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کی اس خط و کتابت کی اطلاع ملی اور بنو نضیر نے بالاتفاق فیصلہ کیا کہ غداری کریں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا کہ آپ اپنے ساتھیوں میں سے تیس آدمی لے کر ہمارے پاس آئیں اور ہمارے تھیں آدمی بھی آئیں گے اور ایسی جگہ جمع ہوں جو درمیان میں ہو اور آپ کی باتیں سنیں۔اگر تو انہوں نے آپ کو سچا مان لیا اور آپ پر ایمان لے آئے تو ہم بھی مان لیں گے۔راوی نے یہ واقعہ بیان کیا اور کہا: جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دستہ فوج لے کر گئے اور انہیں محصور کر لیا اور ان سے کہا: تم میرے پاس امن سے نہیں رہ سکو گے مگر صرف اس صورت میں کہ مجھ سے عہد کرو تو انہوں نے عہد کرنے سے انکار کر دیا جس پر اُن سے اس دن لڑائی ہوئی۔پھر آپ دوسرے دن صبح سویرے بنو قریظہ کے پاس دستہ فوج لے کر گئے اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا اور بنو قریظہ کو عہد کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے عہد کیا جس پر آپ وہاں سے لوٹ آئے اور بنو نضیر کے پاس دستہ فوج لے کر گئے اور ان سے لڑائی ہوئی یہاں تک کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اس شرط پر کہ وہ شہر سے چلے جائیں گے۔چنانچہ بنو نفسیر چلے گئے اور جو سامان اونٹ اُٹھا سکتے تھے وہ ساتھ لے گئے۔(سنن أبي داود، كتاب الخراج، باب في خبر النضير)