صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 120
تيح البخاری جلد ۸ ۱۲۰ ۶۴ - کتاب المغازی کی جلاوطنی ہی پر اکتفا فرمایا۔اس سزا کی تصریح میثاق مدینہ میں موجود ہے کہ جو معاہدہ کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ سزاوار ہو گا اور اگر وہ مدینہ سے چلا جائے تو اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔غزوہ بدر کے اثناء میں اور اس کے بعد بنو قینقاع کا معاندانہ رویہ اور باغیانہ تمرد اتنا واضح تھا کہ ہر شخص جانتا تھا کہ انہوں نے میثاق مدینہ کی خلاف ورزی ہی نہیں کی بلکہ اسے توڑ ہی ڈالا اور اپنے غرور میں اندھے ہو کر دوسروں کی مدد کے بھروسے پر آمادہ جنگ ہو گئے۔بنو قینقاع سے بنو نضیر اور بنو قریظہ کی قدیم دشمنی، ان کی قلیل التعداد آبادی، ان کی تو نگری اور جنگجوئی، غزوہ بدر کے دوران ان کی شرارت اور عدم تلافی، نقض میثاق اور پھر تجدید معاہدہ سے انکار، قلعہ بند ہو کر جنگ پر آمادگی، ان کے حلفاء بنو خزرج کا قبول اسلام ، عبد اللہ بن ابی کے خاندان اور بنو نضیر و بنو قریظہ کی عدم امداد - یہ سب واقعات ہیں جو مذکورہ بالا تفصیل کی تائید کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ان واقعات کی موجودگی میں بنو قینقاع نے کس بناء پر لڑائی چھیڑی؟ اس کا حل مندرجہ ذیل آیت میں ہے۔فرماتا ہے: ثُمَّ اَنْتُم هَؤُلَا تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (البقرة:۸۶) یعنی پھر تم لوگ ہی ہو کہ (اس عہد کے باوجود) آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک جماعت کو گناہ اور ظلم کے ساتھ ان کے دشمنوں کی ) مدد کرتے ہوئے، ان کے گھروں سے نکالتے ہو۔یہ امر کہ بنو قینقاع کسی مفاہمت امداد اور منافقین خزرج اور بنو نضیر ، بنو قریظہ کی شہ پر قلعہ بند ہو کر آمادہ پریکار ہوئے تھے ، کسی بین شہادت کا محتاج تھا جس کے بغیر از روئے معاہدہ اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے از روئے میثاق مدینہ قبائل یہود سے ایفائے میثاق اور تجدید معاہدہ کا مطالبہ کیا۔بنو قینقاع سے بھی جس کا انہوں نے طیش سے جواب دیا اور معاہدہ توڑ دیا۔بنو نضیر و بنو قریظہ سے بھی جنہوں نے تجدید معاہدہ کیا۔اس مطالبہ کے اسباب واضح تھے کہ ان کے تیور بدل چکے تھے اور نمایاں تغیر سے نہ صرف شہر کے داخلی امن کے لئے خطرہ پیدا ہو گیا تھا جس کی بابت اطمینان حاصل کرنا ضروری تھا بلکہ قریش مکہ کی انتظامی تیاری کے لحاظ سے بھی تجدید معاہدہ کا مطالبہ نہایت ضروری ہو گیا۔خصوصاً اس لئے بھی کہ غزوہ بدر میں بجائے تعاون و ہمدردی کے بنو قینقاع کی طرف سے شہر میں تشویشناک صورت پیدا کر دی گئی تھی جس کا نتیجہ جنگ اور اخراج کی صورت میں ظاہر ہوا اور اُن کی اس جلا وطنی نے حالت امن مزید مخدوش کر دی تھی۔موسیٰ بن عقبہ کی مذکورہ بالا روایت (نمبر ۴۰۲۸) میں بنو نضیر کے باغیانہ رویے کی صراحت ہے۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ بنو نضیر حربی (جنگجوی) تھے اور موقع دیئے جانے کے باوجود انہوں نے تجدید معاہدہ سے انکار کر دیا۔(السيرة النبوية لابن هشام ، أمر بنی قینقاع، جزء ۳ صفحه ۱۰)