صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 119
صحیح البخاری جلد ۸ 119 ۶۴ - کتاب المغازی وَاللَّهِ لَئِنْ حَارَ بْنَكَ لَتَعْلَمَنَّ أَنَّا نَحْنُ النَّاسُ۔یعنی تمہیں ان لوگوں سے واسطہ پڑا ہے جو لڑائی کرنا نہیں جانتے اور تم کو انہیں قتل کرنے کا موقع مل گیا۔اگر تمہاری جنگ ہمارے ساتھ ہوئی تو تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ ہم کیسے جوانمرد ہیں۔بنو قینقاع کے مذکورہ جواب سے ظاہر ہے کہ انہیں منافقین اور بنو نضیر کی در پردہ شہ حاصل تھی کیونکہ تعداد کے لحاظ سے وہ چھوٹا سا قبیلہ تھا جو مدینہ کے ایک محلہ میں رہتا تھا۔کثیر التعداد بنو اوس اور خزرج کے ساتھ تنہا جرات نہیں کر سکتا تھا، بنو خزرج کے اکثر خاندان سوا خاندان عبد اللہ بن اُبی مسلمان ہو چکے تھے۔ان کا جواب اور جنگ پر آمادگی بتاتی ہے کہ انہیں دوسروں کی مدد کا یقین دلایا گیا تھا۔غرض ان کے غرور نے انہیں آپے سے باہر کر دیا اور انہوں نے قلعہ بند ہو کر مورچے سنبھال لئے اور لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔اس زمانہ کے دستور کے مطابق قلعہ بند ہونا ایک کھلا اعلانِ جنگ تھا۔لڑائی دو طریقوں سے کی جاتی تھی۔کھلے میدان میں یا قلعہ بند ہو کر بتایا جا چکا ہے کہ مدینہ میں اور جہاں جہاں یہودیوں کی اہم بستیاں تھیں ان میں آطام یعنی قلعہ نما مکانات اسی غرض سے بنائے گئے تھے کہ محفوظ ہو کر دشمن سے جنگ کی جائے۔یہ آطام مستحکم تھے اور ان میں ذخائر رسد، آب رسانی اور اسلحہ کا خاطر خواہ انتظام تھا۔ان کی طرف سے مسلمانوں پر حملے شروع ہو گئے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ کا حکم دیا جو کم و بیش پندرہ دن رہا۔انہیں متوقع مدد کہیں سے نہ ملی اور آخر بنو قینقاع تاب مقاومت نہ لا کر مصالحت پر اتر آئے۔مدد نہ ملنے کی بڑی وجہ یہی تھی کہ بنو قینقاع اور بنو نضیر و بنو قریظہ کے درمیان قدیم سے شدید عداوت تھی۔ہجرت نبوی سے چند سال قبل بنو اوس اور بنو خزرج کے درمیان جنگ بعاث ہوئی جو تاریخ عرب کا مشہور واقعہ ہے۔بعاث نامی بستی بنو قریظہ کی تھی۔سے اس خانہ جنگی میں بنو قینقاع نے قبیلہ خزرج کا ساتھ دیا اور بنو نضیر اور بنو قریظہ نے قبیلہ اوس کا۔لڑائی میں بنو قینقاع کا سخت جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔مستشرقین کو بھی تسلیم ہے کہ بنو قینقاع سے باقی یہودی قبائل میثرب کی عداوت قدیم سے تھی ہے اور انہیں اس کے قبیلہ سے حسد بھی تھا کہ وہ زیادہ دولت مند اور بڑے جنگجو تھے اور اسلحہ سازی میں ماہر۔اس قدیم بغض و حسد کی وجہ سے وہ ان کے بدخواہ تھے۔اس لئے دونوں قبیلے بنو قینقاع سے عمد ا کنارہ کش رہے۔سورۃ الحشر کی آیت بأسهم بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ (الحشر :۱۵) اور الفاظ آیت قُلُوبُهُم شقی (الحشر : ۱۵) میں ان کی اسی شدید عداوت کا ذکر ہے۔سیرت ابن ہشام میں ہے کہ بنو قینقاع کے ہتھیار ڈالنے پر اُن کے خزرجی حلیف عبد اللہ بن اُبی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے ساتھ نرمی برتنے کی سفارش کی جس پر آپ نے جنگجو لوگوں سے درگذر کرتے ہوئے ان ( السيرة النبوية لابن هشام ، أمر بنی قینقاع، جزء ۳ صفحه ۹) تاريخ الخميس، حوادث السنة الثانية من الهجرة، غزوة بني قينقاع، جزء اول صفحه ۴۰۹ (معجم البلدان، باب الباء والعين - بعاث ) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الخامس مكة ويثرب ازاء الحركة الاسلامية ، صفحہ ۱۰۷)