صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 118 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 118

صحيح البخاری جلد ۸ IIA ۶۴ - کتاب المغازی حالت میں لڑائی کر سکیں گے۔یہودیوں میں جنگ بدر سے پہلے ہی تغیر پیدا ہو چکا تھا۔خانہ جنگی کی صورت پیدا کر کے میثاق مدینہ کو کالعدم کرنے میں اپنا فائدہ سمجھتے تھے۔چنانچہ محلہ قبا کا واقعہ اس پر شاہد ہے۔انہوں نے اوس و خزرج کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موقع پر نہ پہنچ جاتے تو ان میں تلوار چل جاتی اور ایام جاہلیت کی سی خانہ جنگی عود کر آتی۔مگر آپ کے تشریف لے آنے سے دونوں قبیلوں کا اشتعال فرو ہو گیا۔لے موجودہ فساد میں بنو قینقاع کو شہ دینے میں کچھ خزرجی منافق اور کچھ ان کے قدیمی دشمن بنونضیر کا بھی ہاتھ تھا۔جو اُن کی ثروت و طاقت پر حسد کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کی لڑائی ہمسایہ قبیلہ خزرج و اوس سے چھڑ جائے تا اُن کی طاقت ٹوٹے۔اس لئے انہوں نے بنو قینقاع کو اکسایا اور اپنی مدد کا وعدہ کیا۔آیت تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ والعدوان (البقرة: ٨٧) سے میں ان کی اس شرارت کا ذکر ہے۔بنو قینقاع کی نیتیں بگڑ چکی تھیں۔اپنے غرور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت سے فائدہ نہ اٹھایا۔آپ نے مذکورہ بالا فتنہ میں مسلمانوں کو صبر اور درگذر کی تلقین فرمائی۔انہوں نے صبر سے کام لیا۔بحالیکہ ان کا نہ صرف آدمی ہی مارا گیا تھا بلکہ مسلمان خاتون سے تمسخر اور اس کی بے آبروئی، ان کی عزت پر ایسا داغ تھا جو اُن کے نزدیک تمسخر کرنے والے کے قتل سے مٹ نہیں سکتا تھا۔یہ وہ لوگ تھے کہ ان کے ایک کتے کے مارے جانے پر وہ برسوں آپس میں لڑتے رہے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھانے سے ان کا غصہ تو فرو ہوگیا لیکن بنو قینقاع کے مغرور یہودی چونکہ فساد پر تلے ہوئے تھے اور سمجھتے تھے کہ مسلمان ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔اس لئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انہیں میثاق مدینہ کی تجدید کے لئے توجہ دلائی گئی تو ان کے سرداروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سابقہ معاہدہ کو توڑ دیا اور آپ کے مصالحانہ رویے اور آپ کی مشفقانہ نصیحت کی پرواہ نہ کی اور مسلمانوں کی خاموشی کو اُن کی کمزوری پر محمول کر کے انہیں طعنے دینے لگے کہ بتوں کے پوجنے والے، جنگ سے ناواقف ، قریش مکہ کو شکست دینا کونسی بات تھی۔ہم سے سابقہ پڑا تو پتہ لگ جائے گا۔ہے اس بارے میں ابو داؤد کے الفاظ یہ ہیں: لَا يَغُرَّنَّكَ مِنْ نَّفْسِكَ أَنَّكَ قَتَلْتَ نَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا أَغْمَارًا لَا يَعْرِفُونَ الْقِتَالَ إِنَّكَ لَوْ قَاتَلْتَنَا لَعَرَفْتَ أَنَّا نَحْنُ النَّاسُ یعنی تمہیں یہ بات دھوکہ میں نہ ڈال دے کہ تم نے قریش کے چند لوگوں کو جو لڑنا نہیں جانتے تھے قتل کیا ہے۔اگر تمہاری ہم سے لڑائی ہوئی تو اللہ کی قسم ! تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم ہی جواں مرد ہیں۔سیرت ابن ہشام میں اسی مفہوم کی ایک روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : إِنَّكَ لَقِيْتَ قَوْمًا لَّا عِلْمَ لَهُمْ بِالْحَرْبِ فَأَصَبْتَ مِنْهُمْ فُرْصَةٌ إِنَّا 1 (السيرة الحلبية، بأب بدء الأذان ومشروعيته، جزء ۲ صفحه ۱۴۳) المغازى للواقدی، غزوة قينقاع، جزء اوّل، صفحه (۱۷۸) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " تم گناہ اور ظلم کے ذریعہ ان کے خلاف ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہو۔“ تاريخ الطبري، القول في سيرة النبوية، السنة الثانية من الهجرة، غزوة بنی قینقاع، جزء ۲ صفحه ۴۷۹) سنن أبی داود کتاب الخراج بأب كيف كان إخراج اليهود من المدينة )