صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 117
صحيح البخاری جلد ۸ 112 ۶۴ - کتاب المغازی شریک نہیں ہوئے اور نہ وہ از روئے میثاق بیرون از مدینہ جنگ میں شریک ہونے کے لئے پابند کئے گئے تھے۔اس بارے میں عدم تعاون کی وجہ سے ان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تھی۔مسلمانوں کا بیشتر حصہ میدانِ جنگ میں تھا اور مدینہ منورہ میں صرف اتنی تعداد تھی جو حفاظت کے لئے ضروری تھی۔یہودیوں کو یقین تھا کہ قریش مکہ کی مسلح طاقتور فوج کا مقابلہ نہیں ہو سکے گا اور مسلمانوں کی نہ صرف شکست یقینی ہے بلکہ ان کا زندہ لوٹنا بھی مشکل ہے۔ایک طرف وہ مسلمانوں کی ہلاکت کے انتظار میں تھے اور دوسری طرف انہیں مدینہ میں فتنہ انگیزی کی تدبیر سوجھی تا وہ مجاہدین بدر کو پریشان کریں اور فتح مند قریش پر ظاہر کر دیں کہ وہ ان کے مد و معاون تھے۔اس فتنہ انگیزی میں پیش قدمی قبیلہ بنو قینقاع کی طرف سے ہوئی۔پیشہ کے لحاظ سے یہ لوگ زرگر و آہن گر اور اسلحہ سازی میں ماہر تھے اور سپہ گری میں طاق اور انہیں اپنی طاقت پر غرور تھا۔غزوہ بدر کے ایام میں یہ سمجھ کر کہ قریش غالب آئیں گے مسلمانوں کا مذاق اُڑانے لگے اور خواتین سے تعرض شروع کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی میں مدینہ کی فضا مکدر کر دینی چاہی۔طبقات ابن سعد میں ہے : فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ أَظْهَرُوا الْبَغْيَ وَالْحَسَدَ وَنَبْذُوا الْعَهْدَ وَالْمُدَّه۔یعنی واقعہ بدر کے ایام میں بنو قینقاع نے شرارت کی، حاسدانہ رویہ اختیار کیا اور پختہ عہد کی قطعا پر واہ نہیں کی اور ابن اسحاق کا قول ہے: اِنَّ بَنِي فَيَنْقَاعُ كَانُوا أَوَّلَ يَهُودٍ نَقَضُوا مَا بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ " یعنی بنو قینقاع یہودیوں میں سے پہلے ہیں جنہوں نے معاہدہ توڑا اور انہی دنوں کا واقعہ ہے کہ ایک انصاری خاتون ایک قینقاع زرگر کی دُکان پر زیور بنوانے یا لینے کے لئے گئی۔اس کا او باشانہ طریق سے مذاق اُڑایا گیا۔وہ ایک طرف بیٹھی انتظار میں تھی کہ دُکاندار نے حیاء دار انصاری خاتون کی اوڑھنی کا پچھلا حصہ تکلے سے اس کے نہ بند کے ساتھ ٹانک دیا۔جب وہ اٹھی تو جھٹکے سے اس کا تہ بند کھل گیا جس پر ڈکاندار اور اس کے ساتھیوں نے قہقہہ لگایا۔مسلمان خاتون اپنی بے عزتی پر چلائی اور مدد طلب کی۔ایک مسلمان جو قریب سے گزر رہا تھا موقع پر پہنچ گیا اور دُکاندار کو وہیں تہ تیغ کر دیا۔یہودی اس پر لپک پڑے اور وہ مسلمان بھی شہید ہو گیا۔جب مسلمانوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور میٹر ب میں بلوے کی صورت پیدا ہوگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میدانِ بدر سے ظفر مند ہو کر مدینہ میں واپس آچکے تھے۔آپ کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ بنو قینقاع کے محلے میں آئے جو مدینہ ہی کا حصہ تھا اور ان کے ورثاء کو بلایا اور سمجھایا کہ شہر کے امن امن میں سب کی بھلائی ہے اسے مکدر کرنا مناسب نہیں۔اس قسم کے فساد سے معاہدہ کی غرض مٹ جائے گی۔سے بنو قینقاع کو نہ صرف اپنی قوت اور مال و دولت کا غرور تھا بلکہ منافقین خزرج اور یہودی ہمسایہ قبیلہ بنو نضیر کی بھی شہ حاصل تھی۔مجاہدین بد ر تھکے ماندے تھے اور ان میں سے بعض زخمی۔بنو قینقاع کو امید نہیں تھی کہ مسلمان اس الطبقات الكبرى لابن سعد، السيرة النبوية، غزوة بنی قینقاع، جزء ۲ صفحه ۲۶) (السيرة النبوية لابن هشام ، أمر بنی قینقاع، جزء ۳ صفحه ۹) (تاريخ الخميس، حوادث السنة الثانية من الهجرة، غزوة بني قينقاع