صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 116 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 116

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔(ترجمہ از تفسیر صغیر حضرت مصلح موعود له) نیز فرماتا ہے : لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرَى مُحَضَنَةٍ أَوْ مِنْ وَرَاءِ جُدَارٍ (الحشر : ۱۵) یعنی وہ متحد ہو کر تمہارا مقابلہ نہیں کریں گے۔قلعہ بند بستیوں ہی میں محفوظ ہو کر تم سے لڑیں گے۔كَمَثَلِ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ اور ان کا انجام بنو قینقاع کے انجام کے مانند ہو گا یعنی جلا وطنی۔سورۃ الحشر کی ان آیات میں مذکورہ بالا روایت کے اجمال کی تفصیل موجود ہے اور اسی سورۃ میں کعب بن اشرف اور ابورافع سرغنہ ہائے یہود کے انجام سے متعلق بھی پیشگوئی ہے جو بنو نضیر وغیرہ قبائل کی پیٹھ ٹھونکنے میں پیش پیش تھے۔فرماتا ہے: فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَا أَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَوا الظَّلِمِينَ & (الحشر: ۱۸) یعنی ان دونوں کا انجام یہ ہو گا کہ وہ دونوں آگ میں پڑیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ظالموں کی یہی جزا ہوتی ہے جس جنگ کو انہوں نے بھڑ کا یا ہے اس کے برے انجام سے بچ نہیں سکیں گے۔نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ان دونوں سرغنوں کے انجام کا ذکر مابعد کے ابواب میں کیا گیا ہے۔وہاں متعلقہ آیات کی شرح دیکھئے۔غرض باب ۱۴ کا عنوان الفاظ " حَدِيثُ بَنِي النَّصِيرِ قائم کر کے بحوالہ سورۃ الحشر روایات کا بیان اسی طرح آیات کے تابع رکھا گیا ہے۔جس طرح کہ الفاظ قِصَّةُ غَزْوَةِ بَدْرٍ سے غزوہ بدر کے بارے میں روایات زبان زد آیات قرآنیہ کے تابع رکھی گئی ہیں۔سیرت ابن ہشام میں غزوہ بنی قینقاع کا بیان ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: وَكَانَ مِنْ حَدِيثِ بَنِي قَيْنُقَاعٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ جَمَعَهُمْ بِسُوقِ بَنِي فَيُنْفَاعَ - بنو قینقاع کی بات یوں ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قینقاع کی منڈی میں جمع کیا۔باب کے الفاظ حَدِيثُ بَنِي النَّسِيرِ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے جو محمد بن اسحاق وغیرہ نے نقل کی ہے اور سورۃ الحشر کے شانِ نزول سے متعلق چند مستند روایات سے ثبوت بہم پہنچایا گیا ہے کہ اس کا تعلق بنو نضیر وغیرہ کے قتال و جلاوطنی سے ہے۔اب ذیل میں بعض ایسے واقعات کا ذکر کرنا ضروری ہے جو بنو قینقاع اور بنو نضیر کی جلاوطنی کا باعث ہوئے۔ان میں سے دو کا حوالہ تو عنوان باب میں موجود ہے۔ایک حوالہ دیت کے واقعہ کا جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنونضیر کے پاس گئے اور دوسرا حوالہ اُن کے غدر کا۔ان دونوں حوالوں کا تعلق بنو نضیر کی جلاوطنی سے ہے۔قبیلہ بنو قینقاع کا واقعہ پہلے بیان کیا جاتا ہے جس کی جلاوطنی کا ذکر باب ۱۴ کی پہلی روایت اور سورۃ الحشر کی آیت ۱۶ میں ہے کہ انہوں نے بنو نضیر سے پہلے اپنے کئے کی سزا پائی۔۔قریش مکہ نے مدینہ منورہ پر جو پہلا حملہ کیا وہ غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے اور مدینہ کے مہاجرین و انصار قلت تعد اد اور کمی ساز و سامان کے سبب سے جس حالت ضعف میں تھے وہ معلوم ہے اور میثاق مدینہ کا تقاضا یہ تھا کہ مدینہ کا امن برقرار رکھا جائے اور اس مشترکہ غرض میں وہ پورا پورا تعاون کریں لیکن تحویل قبلہ پر اُن کی حالت دگر گوں ہوگئی۔اس امتحان الہی نے ان کا نفاق ظاہر اور بغض نمایاں کر دیا۔منافقین و مخلصین کا امتیاز ہو گیا۔وہ بدر میں (السيرة النبوية لابن هشام ، أمر بنی قینقاع، جزء ۳ صفحه ۹)