صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 115 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 115

حيح البخاری جلد ۸ ۱۱۵ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَى مُلْكِ سُلَيْنَ (البقرة: ۱۰۳) کے مطابق وہ مسلمانوں کے استیصال سے متعلق ریشہ دوانیوں اور منصوبہ بازیوں میں مشغول ہو گئے تھے جس سے انہیں اسی آیت کے آخر میں سمجھایا اور ڈرایا گیا ہے کہ ان کی یہ غداریاں بجائے نفع دینے کے نقصان رساں ہوں گی مگر انہوں نے نہ نصیحت سے فائدہ اُٹھایا نہ انذار سے بلکہ آمادہ پر کار ہو گئے جس کا مجمل ذکر موسیٰ بن عقبہ کی مذکورہ بالا روایت میں ہے۔عنوانِ باب ۱۴ میں سورۃ الحشر کا حوالہ دے کر روایت کے اجمال کو واضح کیا اور اس کے بعد پانچ روایتوں سے بتایا ہے کہ سورۃ الحشر کا تعلق غزوہ بنو نضیر سے ہے۔حشر کے معنی ہیں جنگ کے لئے جمع ہونا، ہنگامہ آرائی اور فوج کشی کرنا۔قرآن مجید نے یہ لفظ کئی بار ان معنوں میں استعمال فرمایا ہے۔(دیکھئے سورۃ الکہف آیت ۴۸، سورۃ النمل آیت ۱۸) سورۃ الحشر کی آیت نمبر ۳ میں فقرہ لاولِ الْعَشْرِ سے بظاہر یہ پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی یہ پہلی صف آرائی تھی اور اس کے بعد اسی قسم کی اور بھی جنگی کارروائیاں ہیں لیکن اسی سورۃ کی آیت ۱۶ ( كَمَثَلِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ذَا قُوا وَبَالَ اَمْرِهِمْ (۳) میں صراحت ہے کہ بنو نضیر سے پہلے یہودیوں کے ایک اور قبیلے کا انہی جیسا بد انجام ہو چکا ہے۔مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد بنو قینقاع کی جلاوطنی ہے۔سے اسی طرح روایت نمبر ۴۰۲۸ میں بنو قینقاع سے متعلق جو اجمال ہے اس کی وضاحت بھی سورۃ الحشر ہی کے حوالہ سے کی گئی ہے جس کے دوسرے رکوع میں باقی قبائل یہود کے انجام کا بھی ذکر ہے کہ منافقین انہیں مدینہ میں رہنے اور جنگ کی صورت میں انہیں مدد دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔فرماتا ہے: اَلم ترَ إِلَى الَّذِينَ نَا فَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ لَبِنْ أخْرِجْتُم لَنَخْرُجَنَ مَعَكُمْ وَلَا تُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا اَبَدًا وَإِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ لَبِنْ أَخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمُ : وَ لَبِنْ قُوتِلُوا لَا يَنْصُرُونَهُمْ ، وَ لَبِنْ نَصَرُوهُمْ لَيُوَلُنَ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ) (الحشر : ۱۳۱۲) ترجمہ: کیا تو نے اُن منافقوں کو نہیں دیکھا جو اہل کتاب میں سے اپنے کا فر بھائیوں کو کہتے ہیں کہ اگر تم کو (مدینہ سے) نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ ہی نکل جائیں گے اور تمہارے خلاف کبھی بھی کسی کی بات نہیں مانیں گے۔اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔اگر ان (اہل کتاب) کو نکال دیا گیا تو یہ (منافق) اُن کے ساتھ کبھی نہیں نکلیں گے اور اگر ان (اہل کتاب) سے جنگ کی گئی تو یہ (منافق) ان کی کبھی مدد نہیں کریں گے۔اور اگر مدد کی بھی تو ( ایسے جھوٹے دل سے کریں گے کہ) جنگ ہوتے ہی پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔اور انہوں نے ان کی مدد تو کیا کرنی ہے خطرہ کے موقع پر ان کی اپنی مدد ا ترجمه حضرت مصلح موعود: " نیز وہ (یہودی) اس (طریق عمل) کے پیچھے پڑ گئے جس کے پیچھے سلیمان کی حکومت کے زمانہ میں ( اس کی حکومت کے باغی پڑے رہتے تھے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ( یہ ) ان لوگوں کی طرح (ہیں) جو اُن سے تھوڑا عرصہ پہلے اپنے اعمال کا وبال چکھ چکے ہیں۔“ ( تفسير القرآن العظيم لابن كثير، سورة الحشر آيت كمثل الذين من قبلهم ، جزء ۸ صفحه ۷۵)