صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 114
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی ہوئے اُن کے گھروں سے نکالتے ہو اور اگر وہ تمہارے پاس قیدی ہو کر ( مدد مانگنے کیلئے) آئیں تو تم فدیہ دے کر انہیں چھڑا لیتے ہو ، گو حقیقتاً ان کا گھروں سے) نکالنا ( بھی ) تم پر حرام کیا گیا تھا۔تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر تو ایمان لاتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کرتے ہو۔پس تم میں سے جو ایسا کرتے ہیں، ان کی سزا اس (جہان کی) زندگی (ہی) میں رسوائی (اٹھانے) کے سوا اور کیا ہے (جو انہیں ملے گی) اور وہ قیامت کے دن اس سے بھی سخت عذاب کی طرف کوٹائے جائیں گے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اس سے ہر گز بے خبر نہیں۔عنوانِ باب میں واقعہ دیت سے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ غزوہ بدر سے چھ مہینے بعد اور غزوہ اُحد سے قبل ہوا تھا۔اس سے ظاہر ہے کہ میثاق مدینہ پر تقریباً عرصہ دو سال گزر چکے تھے کہ یہود کی طرف سے نقض معاہدہ سے متعلق مقدمات شروع ہونے لگے اور جنگ احد انہی کے انگیخت سے ہوئی تھی جیسا کہ اس کا مفصل ذکر ابھی ہو گا۔باب ۱۴ کے تحت نو روایتیں نقل کی گئی ہیں۔پہلی روایت میں ہے کہ بنو نضیر، بنو قریظہ، بنو قینقاع، بنو حارثہ اور باقی یہودِ مدینہ سب جلا وطن کئے گئے سوا اُن کے جنہوں نے امان طلب کی۔روایت میں یہ صراحت بھی ہے کہ اول الذکر دو قبیلوں نے جنگ کی۔ان میں سے ایک جلاوطن ہوا اور دوسرا مدینہ میں رہنے دیا گیا اور پھر جب اس نے جنگ کی تو ان کے مرد قتل کئے گئے اور ان کی جائیدادیں، عورتیں اور بچے بطور مال غنیمت تقسیم ہوئے۔یہ روایت موسیٰ بن عقبہ سے مروی ہے۔غزوات نبویہ کی تمہید میں بتایا گیا ہے کہ امام زہری کے شاگردوں میں سے دو شخص ہیں جن کے ذریعے غزوات کے بارے میں معلومات ہم تک پہنچی ہیں۔ایک موسیٰ بن عقبہ اور دوسرے محمد بن اسحاق۔اول الذکر خاندان زبیر کے غلام تھے ان کی ملاقات حضرت عبد اللہ بن عمر سے ثابت ہے اس لئے یہ تابعی ہیں۔امام مالک ان کے بہت مداح تھے اور ان سے انہوں نے احادیث اخذ کیں اور ان کا قول ہے کہ غزوات کا علم ان سے حاصل کیا جائے۔ان کی روایت ۴۰۲۸ سے معلوم نہیں ہوتا کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ نے کیوں جنگ کی اور ان میں سے ایک قبیلہ کیوں جلا وطن کیا گیا اور دوسرا کیوں رہنے دیا گیا اور یہ قبیلہ مدینہ میں کب تک رہا اور باقی یہودیوں کی جلاوطنی کن اسباب سے عمل میں آئی۔ان سوالوں کا جواب سورۃ البقرۃ، سورۃ الحشر اور سورۃ الاحزاب سے ملتا ہے۔شرح باب ۱۴ کے شروع میں بتایا گیا ہے کہ واقعہ بنو نضیر آخری کڑی ہے کئی واقعات کی جن میں یہودی قبائل نے نقض عہد کیا، ظلم و تعدی اور فتنہ و فساد سے کام لیا۔سورۃ البقرۃ کی مذکورہ بالا آیت تَظهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ میں صراحت ہے کہ یہودی محرمات اور شرارت میں ایک دوسرے کی پیٹھ ٹھونکتے تھے اور اسی سورۃ میں یہ بھی صراحت ہے: أَوَ كُلَّمَا عَهَدُوا عَهْدًا نَبَنَا ذَ فَرِيقٌ مِنْهُم (البقرة : ۱۰۱) کے یعنی اُن کا وتیرا ہو چکا تھا کہ وہ بار بار نقض عہد کے مرتکب ہوتے تھے۔معاہدہ کی ذمہ داریوں سے دیانت داری سے عہدہ برا ہونے کی جگہ وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيْطِيْنُ (سير أعلام النبلاء للذهبي ، الطبقة الرابعة من التابعين، موسى بن عقبة، جزء ۶ صفحه ۱۱۴، ۱۱۵) ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع: "کیا جب کبھی بھی وہ کوئی عہد کریں گے ان میں سے ایک فریق اس (عہد ) کو پرے پھینک دے گا؟“