صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 113 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 113

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی بھی ذکر ہے کہ وہ ان کا پاس کریں اور یہ سارا بیان ایسے لطیف پیرایہ میں ہے کہ اسلامی شریعت کی فضیلت از خود واضح ہو جاتی ہے۔احکام الہی کی طرف توجہ دلانے کے بعد پھر اس تنبیہہ اور اپیل کا اعادہ زیادہ واضح الفاظ میں کیا گیا ہے کہ لا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةُ (البقرة : ۱۲۴) دیکھو کوئی سفارش نفع نہیں دے گی۔سورۃ البقرۃ میں پیشگوئی فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ (البقرة: ۱۲۵ - کا تعلق مشرکین قریش کے انجام سے ہے جو غزوات بدر اور اُحد وغیرہ میں ظاہر ہوا اور وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقبلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلُ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ ) (البقرة: ٤٩) کی پیشگوئی یہودیوں کے انجام سے متعلق ہے جو غزوات بنی نضیر و خیبر وغیرہ میں ظاہر ہوا اور اس طرح دونوں پیشگوئیاں آنحضرت علی اللہ یلم کے دعوئی رسالت کی حقیقت کے لئے آیات بینات کی صورت میں ابدی نشان صداقت بنیں۔دراصل یہی وہ دعوی تھا جس کے ساتھ مشار الیہا آیات شروع ہوئیں۔وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ (البقرة : ۲۴) مذکورہ بالا معاہدہ مدینہ اور صورت واقعات وہ پس منظر ہیں جن کی روشنی میں غزوہ بنی نضیر سے متعلق حدیث کی شرح ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔امام بخاری نے یہ حدیث تابع رکھی ہے آیات سورۃ الحشر کے، جن کا حوالہ عنوانِ باب میں دیا ہے، لہذا ضروری ہے کہ غزوہ بنی نضیر کے اسباب سمجھنے کے لئے میثاق مدینہ اور یہودیوں کی طرف سے نقض میثاق کے واقعات بیان کئے جائیں کیونکہ سورۃ البقرۃ میں اس امر کی صراحت ہے کہ وہ یہ میثاق توڑیں گے ، اپنے لوگوں کو قتل کروائیں گے ، انہیں اپنے وطنوں سے نکالیں گے، محرمات کا ارتکاب کریں گے ، حدود کا پاس نہ رکھیں گے اور شرارت و فتنہ انگیزی میں ایک دوسرے کی پیٹھ ٹھونکیں گے، فرماتا ہے: وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُونَ ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤُلَاءِ تَقْتُلُونَ انْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ إِنْ يَأْتُولَم أَسرى تُفَدُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمُ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ - اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْض الكتب وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذلِكَ مِنْكُم إِلَّا خِزْيٌّ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ الْقِيمَةِ يُرَدُّونَ إِلَى اشَدِ الْعَذَابِ وَ مَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) (البقرة : ۸۵، ۸۲) ترجمہ: اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ تم (آپس میں) اپنے خون نہ بہاؤ گے اور اپنے آپ کو ( یعنی اپنی قوم کے لوگوں کو ) اپنے گھروں سے نہ نکالو گے اور تم نے (اس کا ) اقرار کر لیا تھا اور تم (اس عہد کے متعلق ) ہمیشہ گواہی دیتے رہے ہو۔پھر تم لوگ ہی ہو کہ (اس عہد کے باوجود ) آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک جماعت کو گناہ اور ظلم کے ساتھ (ان کے دشمنوں کی ) مدد کرتے ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور اگر تم اس بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اُتارا ہے تو اس جیسی کوئی سورۃ تو لا کے دکھاؤ۔"