صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 112
حيح البخاری جلد ۸ ۱۱۲ ۶۴ - کتاب المغازی اپنے مذہب کی فوقیت سمجھتے تھے۔اب جبکہ تحویل قبلہ کا حکم پوری تفصیل سے نازل ہوا تو یہودیوں میں برہمی پیدا ہوگئی۔ڈیڑھ سال کے عرصہ میں انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ میثاق مدینہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انفاس قدسیہ اور اسوۂ حسنہ کی برکت سے وادی میثرب کے مسلم قبائل میں اخوت کی گرہیں مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہیں، ان کے اخلاق میں پاکیزگی نمایاں ہے، اقتصادی حالت پہلے سے اچھی ہے، ان میں بیداری پیدا ہو چکی ہے اور طبائع اصلاح کی طرف مائل ہیں۔اس کے برعکس یہودیوں کے ہاتھ معاہدے کی ذمہ واری کے بندھنوں سے جکڑے ہوئے ہیں اور عربی قبائل کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اُٹھانے میں پہلے کی سی آزادی انہیں حاصل نہیں رہی۔ان کا یہ احساس تحویل قبلہ کے ساتھ شدت پکڑ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روز افزوں اقتدار نے اُن کے حسد کی آگ بھڑ کافی شروع کر دی۔ان کے اس حاسدانہ تغیر کا ذکر سورۃ البقرۃ میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَذَكَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ تو يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كَفَارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقِّ ۚ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة: ۱۱۰) ترجمہ: اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ بعد اس کے کہ حق اُن پر خوب کھل چکا ہے، اس حسد کی وجہ سے جو اُن کی اپنی ہی جانوں سے ( پیدا ہوا) ہے، چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لے آنے کے بعد تمہیں پھر کا فر بنا دیں۔پس تم اس وقت تک کہ اللہ اپنے حکم کو نازل فرمائے، انہیں معاف کرو اور (اُن سے ) در گذر کرو۔اللہ یقیناً ہر ایک امر پر پورا (پورا) قادر ہے۔جہاں اس آیت میں مومنوں کو عفو اور درگذر کی تلقین فرمائی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ یہودیوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت و تقدیر کے حوالے کیا جائے۔یہودیوں کو اُن کی غداری کے انجام بد سے آگاہ کیا گیا ہے اور سورۃ البقرۃ میں بار بار مؤثر انداز سے انہیں اپنے مقام علم و فضل کا لحاظ رکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔فرماتا ہے: لبنی إسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَانّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ) (البقرة: ۱۲۳،۴۸) اور کھلے الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ آنحضرت علی ایم کی بعثت سے دوبارہ منعم بنے کا جو موقع ملا ہے اگر اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور اسے ضائع کر دیا تو پھر وہ دن آجائے گا جس میں کوئی نفس کسی نفس کے کام نہیں آئے گا، تاوان اور معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا اور سفارش بے سود ہو گی اور مددیں بے کار۔فرماتا ہے: وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدَكَ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ ) (البقرة:٤٩) صرف اس تنبیہہ پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ بطور اتمام حجت احکام الہیہ بھی ایک ایک کر کے بیان کئے گئے ہیں جن کے ساتھ ضمناً احکام تورات کا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ”اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اُس نعمت کو جو میں نے تم پر کی اور یہ بھی کہ میں نے تمہیں سب جہانوں پر فضیلت دی۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: اور ڈرو اس دن سے جب کوئی نفس کسی دوسرے نفس کے کچھ کام نہیں آئے گا اور نہ اس سے (اس کے حق میں کوئی شفاعت قبول کی جائے گی اور نہ اس سے کوئی بدلہ وصول کیا جائے گا اور نہ وہ (لوگ) کسی قسم کی مدد دیئے جائیں گے۔“ لیہ