صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 111
صحيح البخاری جلد ۸ 111 ۶۴ - کتاب المغازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لئے نہیں نکلے گا۔اس معاہدہ کی رو سے کوئی ظالم یا مرتکب محرمات یا مفسد - سزا یا انتقام سے محفوظ نہیں ہو گا۔تنازعات و اختلافات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا اور فیصلہ ہر قوم کی شریعت کے مطابق ہو گا۔مذکورہ بالا معاہدے کی ہر شق واضح ہے۔تمام قبائل مدینہ نے برضاء و رغبت اسے تسلیم کیا۔سرداران یہود نے بھی اس پر دستخط کئے اور معاہدے کی ایک ایک نقل اپنے پاس محفوظ رکھ لی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے لئے بقول ابن اسحاق رمضان ۲ھ میں کوچ کیا یعنی ہجرت سے ڈیڑھ سال بعد۔۔اس عرصہ میں معاہدے پر عمل ہوا۔مسلمان اور یہودیوں کے درمیان کھیتی باڑی سے متعلق بعض تنازعات ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلے فرمائے۔ظلم و تعدی ہوئی تو آنحضرت صلی الہ ہم نے شریعت موسوی کے مطابق فیصلہ فرمایا جو نافذ کیا گیا۔(کتاب الخصومات، بابا، روایت نمبر ۲۴۱۳) تجارتی کاروبار میں جھگڑا ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کارروائی فرمائی۔(کتاب الخصومات، باب ۳، روایت نمبر ۲۴۱۷) اور محرمات کا ارتکاب ہونے پر تورات کی سزا نافذ کی گئی۔(کتاب المناقب باب ۲۶ ، روایت نمبر ۳۶۳۵) جہاں تک معاہدہ کے احترام و نفاذ کا تعلق ہے تحویل قبلہ تک حالت بالعموم تسلی بخش رہی۔کیونکہ عقیدہ توحید، عبادات الہی، نفی شرک تلقین اخلاق و اعمال صالحہ اور ممانعت منکرات و محرمات سے متعلق شریعت موسوی و شریعت اسلامیہ میں اتفاق تھا۔غسل و طہارت سے متعلقہ احکام میں مماثلت پائی جاتی تھی۔صدقات و خیرات پر بھی عمل تھا۔بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں بھی پڑھی جاتی تھیں اور ذرائع دولت، صنعت و حرفت، زراعت و تجارت اور سودی کاروبار کی وجہ سے یہود مدینہ کے دیگر باشندوں کی نسبت بہت اچھی حالت میں تھے بلکہ دوسرے ان کے محتاج اور مقروض تھے۔اس لئے یہودیوں کی اس فوقیت اور امتیاز نے انہیں وادی میثرب میں محسود بنا دیا تھا اور وہ اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھے جاتے تھے اور انہیں عربوں کی طرف سے اندیشہ رہتا تھا۔(جیسا کہ پنجاب میں سودی کاروبار کرنے والے ساہوکاروں کا حال تھا کہ زمیندار طبقہ انہیں اچھا نہیں سمجھتا تھا اور ان کے خلاف تھا یہی حال مدینہ میں یہودی سا ہو کار کا تھا۔) اس لئے یہود مذکورہ بالا معاہدے کو غنیمت سمجھ کر بخوشی اس میں شامل ہو گئے اور انہوں نے معاہدہ کی حرمت کا پاس رکھا۔اسی میں وہ اپنے مادی فوائد کو محفوظ پاتے تھے لیکن جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا اور یہ حکم غزوہ بدر سے تقریباً ایک ماہ قبل نازل ہوا تھا۔مدینہ میں تحویل قبلہ سے پہلے سولہ سترہ مہینے مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس ہی رہا تھا اور ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھی ہیں۔بیت المقدس اور بیت اللہ ایک ہی سمت تھے اور آپ کا یہ طریق تھا کہ جب تک کوئی نیا حکم نازل نہ ہو تو رات کے احکام کی اتباع ملحوظ رکھتے تھے۔(اس تعلق میں کتاب الإیمان باب ۳۰ ، کتاب الصلاۃ باب ۳۱، ۳۲ بھی دیکھئے) مدینہ منورہ میں مشرکین کا قبلہ تو بیت اللہ ہی تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ بیت المقدس اور اسے یہود بالطبع ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بدر الكبرى، خروج رسول الله ، جزء ۲، صفحه (۲۵۵)