صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 110
صحیح البخاری جلد ۸ 5 km ـرة واقـ بنو قینقاع ۱۱۰ ۶۴ - کتاب المغازی مجمع الأسيال وادى قناة : بنو عبد الأشهل بنو حارة الشيخين مسجد نبوی جبل سلع رغابة ه بنو ظفر بنو ساعدة : وادی بطحان بنو غنم بنو دينار بن النجار بنو سالم بن عوف ۔ قباء بنو عمر و بن عوف : وادی مهزور بنو قريظة بنو أمية كعب بن الأشرف بنو النضير ة قيق جبل عير ۔ ظہور اسلام کے وقت جزیرہ عرب میں یہود کی سب سے بڑی آبادی بیشرب اور خیبر میں تھی جو کسی زمانہ میں عمالقہ کا مرکز تھا، حرم کی اصطلاح ان تمام بستیوں پر حاوی تھی اور یہ اصطلاح انہی معنوں میں اطلاق پاتی تھی جن میں آج کل محفوظ شہر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ معاہدے میں صراحت ہے کہ اس کے اندرونی امن میں خلل نہیں ڈالا جائے گا اور بیرونی حملے کا متحدہ دفاع ہو گا۔ ہر قوم اپنے اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی۔ کسی فریق کو دشمن سے صلح کرنی پڑے تو دوسرا فریق بھی شریک صلح ہو گا سوا اس کے کہ جنگ مذہبی ہو۔ تمام باشندگان کی عزت و آبرو اور مال و جان محفوظ ہوں گے اور ظالم و مجرم کو قانون الہی کے مطابق سزا دی جائے گی اور اس میں روک نہیں ڈالی جائے گی۔ قریش مکہ اور ان کے معاونین کو کسی قسم کی مدد اور پناہ نہیں دی جائے گی۔ کوئی فریق بغیر اجازت