صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 110 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 110

صحيح البخاری جلد ۸ 5 km 11۔۶۴ - کتاب المغازی جبل أحد مجمع الأسيال وادى قناة : ينوحان جبل سلع بنو عبد الأشهل نبوی بنو قینقاع ه بنو ظفر زغابة ہنو بنو دینار بن النجار و سالم بن عوف قباء ٥ بنو عمرو بن عوف ه بنو قريظة و أمية ! النضير ادر الحقيق عير ظہورِ اسلام کے وقت جزیرہ عرب میں یہود کی سب سے بڑی آبادی میثرب اور خیبر میں تھی جو کسی زمانہ میں عمالقہ کا مرکز تھا، حرم کی اصطلاح ان تمام بستیوں پر حاوی تھی اور یہ اصطلاح انہی معنوں میں اطلاق پاتی تھی جن میں آج کل محفوظ شہر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔معاہدے میں صراحت ہے کہ اس کے اندرونی امن میں خلل نہیں ڈالا جائے گا اور بیرونی حملے کا متحدہ دفاع ہو گا۔ہر قوم اپنے اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی۔کسی فریق کو دشمن سے صلح کرنی پڑے تو دوسرا فریق بھی شریک صلح ہوگا سوا اس کے کہ جنگ مذہبی ہو۔تمام باشندگان کی عزت و آبرو اور مال و جان محفوظ ہوں گے اور ظالم و مجرم کو قانون الہی کے مطابق سزا دی جائے گی اور اس میں روک نہیں ڈالی جائے گی۔قریش مکہ اور ان کے معاونین کو کسی قسم کی مدد اور پناہ نہیں دی جائے گی۔کوئی فریق بغیر اجازت