صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 109 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 109

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۰۹ ۶۴ - كتاب المغازی وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى أَصْدَقِ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ وَأَبَرِهِ وَ إِنَّهُ لَا يَحُولُ هَذَا الْكِتَابُ دُونَ ظَالِمٍ وَآلِهِ، وَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ آمِنْ وَمَنْ قَعَدَ آمِنْ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ أَوْ أَيْمَ، وَ إِنَّ اللَّهَ جَارٌ لِمَنْ بَرَّ وَاتَّقَى۔ اللہ ضامن ہے کہ جو معاہدہ اس تحریر میں قرار پایا ہے پوری سچائی اور وفاداری سے اس پر عمل ہو گا اور یہ تحریر کسی ظالم و گنہگار کو سزا سے بچانے میں حائل نہیں ہوگی۔ جو (مدینہ سے) نکل جائے گا وہ امن میں ہو گا اور جو مدینہ میں رہے گا وہ بھی امن سے رہے گا لیکن جو ظلم کرے گا اور محرمات کا مرتکب ہوگا اسے امان نہیں دی جائے گی۔ اور جس نے نیکی اور تقوی اختیار کیا، وہ اللہ کی پناہ میں ہوگا۔ ( السيرة النبوية لابن هشام، کتابه بین المهاجرين والأنصار وموادعة يهود، جزء ۲، صفحه ۱۴۳ تا ۱۴۶) مذکورہ معاہدہ جس کا شق وار لفظی ترجمہ کیا گیا ہے ”میثاق مدینہ “ کے نام سے مشہور ہے۔ میثاق کے معنی ہیں پختہ معاہدہ۔ فریقین کی باہمی رضا مندی، قول و اقرار اور اللہ تعالیٰ کے نام سے یہ معاہدہ نہایت پختہ کیا گیا تھا۔ اس میں صراحت ہے کہ اس کی خلاف ورزی کرنے والا ہر قسم کی حمایت، رو رعایت، جنبہ داری اور مدد سے محروم ہوگا اور یہ بھی صراحت ہے کہ ہر فریق کو مذہبی آزادی ہوگی۔ اگر یہود یا مسلمانوں پر کوئی حملہ کرے گا تو مل کر اس کا مقابلہ کیا جائے گا اور اگر کوئی فریق حملہ آور سے صلح کرے گا تو دوسرا بھی شریک صلح ہوگا۔ مذہبی جنگ اس شق سے مستثنی ہوگی۔ معاہدے میں شریک ہونے والے ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے۔ باہمی معاملات عدل و انصاف، نیکی اور تقویٰ پر مبنی ہوں گے۔ ایک دوسرے کی عزت و حرمت کا پاس رکھا جائے گا۔ محرمات کا ارتکاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وادئی یثرب کا علاقہ حرم ہوگا۔ یثرب وہ بستی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ تھی اور علاقے کا نام بھی ہے جو جوفِ مدینہ کہلاتا تھا۔ یہ دس میل لمبا اور پانچ میل چوڑا میدان تھا جو پہاڑیوں اور وادیوں سے گھرا ہوا تھا۔ قبائلی بستیاں عام طور پر وادیوں کے قریب واقع تھیں جہاں آب رسانی کا انتظام کاریزوں اور کنوؤں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ بستیاں سرسبز و شاداب تھیں۔ یہاں نخلستان اور باغات اور گنجان آبادیاں شمالاً جنوبا پھیلی ہوئی تھیں۔ جنوب کی طرف قباء سے شمال میں جبل احد تک، جنوب مشرق میں زیادہ تر یہودی قبائل آباد تھے ، شمال مغربی جہت میں وادی عقیق کا سر سبز و شاداب علاقہ بھی یہودیوں کے قبضہ میں تھا۔ وادی یثرب کا نام جوف مدینہ تھا اور یثرب کی بستی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ ہے اس جوف کے درمیان ہے۔ یہودی بستیوں میں دو یا سہ منزلہ قلعہ نما پختہ مکانات تھے جنہیں آطام کہتے تھے جو جنگی غرض کے لئے مستحکم و مسلح کئے گئے تھے۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ مذکورہ بالا بستیوں میں آباد تھے ، ان کے نام بھی عربی ہیں۔ قین کے معنی ہیں صانع اور قاع کے معنی ہیں ہموار اور نرم زمین۔ یہ لوگ پیشہ آہن گری، زرگری اور زراعت کی وجہ سے قینقاع کہلاتے تھے۔ ( أقرب الموارد - قين، قاع) معاہدہ میں یہود کے حوالے سے آٹھ قبیلے مذکور ہیں یعنی یہود بنی عوف، یہود بنی نجار، یهود بنی الحارث، یہود بنی ساعدہ، یہود بنی جشم، یہود بنی اوس، یہود بنی ثعلبہ (اور انہی میں سے بنی جفنہ بھی)، یہود بنی شطیبہ ۔