صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 109
تيح البخاری جلد ۸ 1+9 ۶۴ - کتاب المغازی > وَإِنَّ اللهَ عَلَى أَصْدَقِ مَا فِى هَذِهِ الصَّحِيفَةِ وَأَبَرِهِ وَ إِنَّهُ لَا يَحُولُ هَذَا الْكِتَابُ دُونَ ظَالِمٍ وَآثِهِ، وَإِنَّهُ مَن خَرَجَ آمِنْ وَمَنْ قَعَدَ آمِنُ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ أَوْ أَيْمَ، وَ إِنَّ اللَّهَ جَارٌ لِمَنْ بَر وَاتَّقَى۔اللہ ضامن ہے کہ جو معاہدہ اس تحریر میں قرار پایا ہے پوری سچائی اور وفاداری سے اس پر عمل ہو گا اور یہ تحریر کسی ظالم و گنہ گار کو سزا سے بچانے میں حائل نہیں ہوگی۔جو (مدینہ سے) نکل جائے گا وہ امن میں ہوگا اور جو مدینہ میں رہے گاوہ بھی امن سے رہے گا لیکن جو ظلم کرے گا اور محرمات کا مرتکب ہو گا اسے امان نہیں دی جائے گی۔اور جس نے نیکی اور <mark>تقویٰ</mark> اختیار کیا، وہ اللہ کی پناہ میں ہوگا۔( السيرة النبوية لابن هشام، كتابه بين المهاجرين والأنصار وموادعة ميهود، جزء ۲ ، صفحه ۱۴۶۳۱۴۳) ع مذکورہ معاہدہ جس کا شق وار لفظی ترجمہ کیا گیا ہے ”میثاق مدینہ" کے نام سے مشہور ہے۔میثاق کے معنی ہیں پختنہ معاہدہ۔فریقین کی باہمی رضامندی، قول واقرار اور اللہ تعالیٰ کے نام سے یہ معاہدہ نہایت پختہ کیا گیا تھا۔اس میں صراحت ہے کہ اس کی خلاف ورزی کرنے والا ہر قسم کی حمایت رو رعایت، جنبہ داری اور مدد سے محروم ہوگا اور یہ بھی صراحت ہے کہ ہر فریق کو مذہبی آزادی ہوگی۔اگر یہود یا مسلمانوں پر کوئی حملہ کرے گا تو مل کر اس کا مقابلہ کیا جائے گا اور اگر کوئی فریق حملہ آور سے صلح کرے گا تو دوسرا بھی شریک صلح ہو گا۔مذہبی جنگ اس شق سے مستقلی ہوگی۔معاہدے میں شریک ہونے والے ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے۔باہمی معاملات عدل و انصاف، نیکی اور <mark>تقویٰ</mark> پر مبنی ہوں گے۔ایک دوسرے کی عزت و حرمت کا پاس رکھا جائے گا۔محرمات کا ارتکاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔وادی میثرب کا علاقہ حرم ہو گا۔میٹرب وہ بستی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ تھی اور علاقے کا نام بھی ہے جو جوف مدینہ کہلاتا تھا۔یہ دس میل لمبا اور پانچ میل چوڑا میدان تھا جو پہاڑیوں اور وادیوں سے گھرا ہوا تھا۔قبائلی بستیاں عام طور پر وادیوں کے قریب واقع تھیں جہاں آب رسانی کا انتظام کاریزوں اور کنوؤں کے ذریعے کیا گیا تھا۔یہ بستیاں سرسبز و شاداب تھیں۔یہاں نخلستان اور باغات اور گنجان آبادیاں شمالاً جنوبا پھیلی ہوئی تھیں۔جنوب کی طرف قباء سے شمال میں جبل احد تک، جنوب مشرق میں زیادہ تر یہودی قبائل آباد تھے ، شمال مغربی جہت میں وادی عقیق کا سرسبز و شاداب علاقہ بھی یہودیوں کے قبضہ میں تھا۔وادی میثرب کا نام جوف مدینہ تھا اور میثرب کی بستی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ ہے اس جوف کے درمیان ہے۔یہودی بستیوں میں دو یا سہ منزلہ قلعہ نما پختہ مکانات تھے جنہیں آطام کہتے تھے جو جنگی غرض کے لئے مستحکم و مسلح کئے گئے تھے۔بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ مذکورہ بالا بستیوں میں آباد تھے ، ان کے نام بھی عربی ہیں۔قین کے معنی ہیں صانع اور قاع کے معنی ہیں ہموار اور نرم زمین۔یہ لوگ پیشہ آہن گری ، زرگری اور زراعت کی وجہ سے قینقاع کہلاتے تھے۔(اقرب الموارد- قین، قاع) معاہدہ میں یہود کے حوالے سے آٹھ قبیلے مذکور ہیں یعنی یہود بنی عوف، یہود بنی نجار، یہود بنی الحارث، یهود بنی ساعدہ، یہود بنی جسم، یہود بنی اوس، یہود بنی ثعلبہ (اور انہی میں سے بنی جفنہ بھی)، یہود بنی شطیبہ۔