صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 108 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 108

صحیح البخاری جلد ۸ I+A ۶۴ - کتاب المغازی فیصلہ میں اللہ عز وجل اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا اور اللہ ہی ضامن ہے کہ اس معاہدہ کی رو سے غایت درجہ <mark>تقویٰ</mark> اور نیکی سے کام لیا جائے گا۔۔۔۔عَلَى رِبْعَتِهِمْ يَتَعَاقَلُوْنَ بَيْنَهُمْ وَهُمْ يَفْدُونَ عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْقِسْطِ يَتَعَاقَلُوْنَ مَعَاقِلَهُمُ الْأُولَى۔۔۔وَكُلُّ طَائِفَةٍ مِّنْهُمْ تَغْدِي عَانِيَهَا بِالْمَعْرُوفِ وَالْقِسْطِ۔ہر قبیلہ کا نام لے کر یہ فقرہ دُہرایا گیا ہے: ) خون بہا اور فدیہ کا سابقہ دستور انصاف سے اُن میں قائم رہے گا۔اور ہر قبیلہ اپنے قیدیوں کو آزاد کرانے کا خود اسی طرح ذمہ دار ہوگا جس طرح وہ پہلے ہوتا تھا۔وَإِنَّ الْمُؤْمِنِينَ الْمُتَّقِينَ عَلَى مَنْ بَغَى مِنْهُمْ، أَوِ ابْتَغَى دَسِيْعَةَ ظُلْمٍ أَوْ إِثْمٍ أَوْ عُدْوَانٍ أَوْ فَسَادٍ بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّ أَيْدِيَهُمْ عَلَيْهِ جَمِيعًا وَلَوْ كَانَ وَلَدَ أَحَدِهِمْ۔۔۔إِنَّ ذِمَّةَ اللهِ وَاحِدَةٌ، يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنِينَ بَعْضُهُمْ مَوَالِى بَعْضٍ دُونَ النَّاسِ، وَإِنَّهُ مَنْ تَبِعَنَا مِنْ يَهُودَ فَإِنَّ لَهُ النَّصْرَ وَالْأَسْوَقَ، غَيْرَ مَظْلُومِيْنَ وَلَا مُتَنَاصَرِيْنَ عَلَيْهِمْ وَإِنَّ سِلْمَ الْمُؤْمِنِينَ وَاحِدَةً لَا يُسَالَمُ مُؤْمِنٌ دُونَ مُؤْمِنٍ فِي قِتَالٍ فِي سَبِيْلِ اللهِ، إِلَّا عَلَى سَوَاءٍ وَعَدْلٍ بَيْنَهُمْ۔معاہدین میں سے جس نے بغاوت کی یا ظالمانہ وطیرہ اختیار کیا یا گناہ کا مرتکب ہوا یا تعدی کی یا فساد کیا تو متقی مومن اس کے خلاف ہوں گے ، سب کے ہاتھ اس کا مقابلہ کرنے میں ایک ہوں گے خواہ اُن کا اپنا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔اللہ (تعالی) کی ذمہ داری ایک سی ہے۔ان میں سے معمولی شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔مومن دوسرے لوگوں کے علاوہ ایک دوسرے کے معاون ہوں گے اور یہودیوں میں سے جس نے ہماراساتھ دیا تو اُس کو مدد دی جائے گی اور اس کے ساتھ مساوات کا سلوک ہوگا، ایسے لوگوں پر کوئی ظلم نہیں ہوگا اور نہ اُن کے خلاف کسی کی مدد کی جائے گی۔مومنوں کا معاہدہ امن ایک سا ہے ، کوئی مومن دوسرے مومن سے علیحدہ دینی جنگ میں اپنے طور پر الگ صلح نہیں کرے گا سبھی عدل و انصاف سے اس میں برابر شریک ہوں گے۔وَ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَقَرَّ بِمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ وَآمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَنْصُرَ مُحْدِثًا وَلَا يُؤْدِيْهِ وَأَنَّهُ مَنْ نَصَرَهُ أَوْ آوَاهُ فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَغَضَبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهُ صَرْفُ وَلَا عَدْلٌ وَإِنَّكُمْ مَهمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ مَرَدهُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى مُحَمّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم۔کسی مومن کے لئے جس نے اس تحریر کا اقرار کیا اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا، جائز نہ ہوگا کہ وہ کسی رخنہ پیدا کرنے والے کی مدد کرے یا اسے پناہ دے، جس نے اس کی مدد کی یا پناہ دی تو اُس پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب قیامت کے روز ہو۔نہ اس سے کوئی رقم لی جائے اور نہ کوئی معاوضہ اور تمہیں جس بات میں بھی آپس میں اختلاف ہوگا تو اُس کے تصفیہ کے لئے اللہ عزو جل کی طرف رجوع کیا جائے گا۔(یعنی فیصلہ ہر قوم کی شریعت کے مطابق ہوگا) اور تنازعہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہو گا۔