صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 106
صحیح البخاری جلد ۸ 1+4 ۶۴ - کتاب المغازی بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَشْرِبَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ فَلَحِقَ بِهِمْ وَجَاهَدَ مَعَهُمْ إِنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْ دون الناس۔محمد نبی صلی علیم کی طرف سے یہ تحریر ہے کہ قریش اور یثرب کے مومن اور مسلم اور جو اُن کے تابع ہوں اور ان میں شامل ہو جائیں اور ان کے ساتھ مل جل کر جہاد کریں وہ دوسرے لوگوں کے سوا ایک امت ہوں گے۔وَإِنَّ بَيْنَهُمُ النَّصْرُ عَلَى مَنْ حَارَبَ أَهْلَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ وَإِنَّ بَيْنَهُمُ النُّصْحَ وَالنَّصِيْحَةَ وَالْبِدُوْنَ الْإِثْمِ وَإِنَّهُ لَمْ يَأْتُمْ امْرُ بِحَلِيفِهِ وَإِنَّ النَّصْرَ لِلْمَظْلُومِ۔۔۔وَإِن يَثْرِبَ حَرَام جَوْفُهَا لِأَهْلِ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ۔جس نے اس معاہدہ میں شریک ہونے والوں سے جنگ کی وہ اس کے خلاف ایک دوسرے کی مددکریں گے اور ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں گے، ان کا آپس میں خیر خواہی اور نیکی کا برتاؤ ہوگا، محرمات کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا اور اپنے حلیف سے بھی ناجائز بات نہیں کی جائے گی ، ناروا سلوک نہیں ہوگا اور مظلوم کی مدد کی جائے گی۔۔اور وادی میثرب اس معاہدہ میں شریک ہونے والے کے لئے حرم ( محفوظ جگہ ) ہے۔وَإِنَّ الْجَارَ النَّفْسِ غَيْرَ مُضَارٍ وَلَا أَيْمٍ وَ إِنَّهُ لَا تُجَارُ حُرُمَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ أَهْلِهَا۔ہمسایہ سے بھی اپنے نفس کا سا سلوک ہو گا۔اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور اس سے کوئی ناروا بات نہیں کی جائے گی اور کسی خاتون کو اُس کے اقرباء کی اجازت کے بغیر پناہ نہیں دی جائے گی۔وَإِنَّهُ لَا تُجَارُ قُرَيْشُ وَلَا مَنْ نَصَرَهَا، وَإِنَّ بَيْنَهُمُ النَّصْرَ عَلَى مَنْ دَهَمَ يَقْرِبَ وإذا دعوا إلى صُلْحِ يُصَالِحُوْنَهُ وَيَلْبَسُونَهُ ، فَإِنَّهُمْ يُصَالِحُونَهُ وَيَلْبَسُونَهُ، وَإِنَّهُمْ إِذَا دعُوا إِلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَإِنَّهُ لَهُمْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا مَنْ حَارَبَ فِي الدِّينِ، عَلَى كُلِّ أُناسٍ حِمَّتُهُمْ مِنْ جَانِبِهِمُ الَّذِي قِبَلَهُمْ۔قریش کو (مدینہ میں) پناہ نہیں دی جائے گی اور نہ اُن کے مددگاروں کو۔یثرب پر حملہ آور کے خلاف آپس میں مدد کی جائے گی اور اگر حملہ آور صلح کی دعوت دے اور اُس پر عمل پیرا ہو تو معاہدہ میں شریک ہونے والے دعوت صلح قبول کریں گے اور اس پر عمل پیرا ہوں گے اور اسی طرح اگر یہ لوگ حملہ آوروں کو دعوت صلح دیں تو مومنوں پر بھی ان کی دعوت میں شریک ہونا ضروری ہوگا، دینی جنگ اس سے متقی ہوگی۔ہر فریق صلح و جنگ میں اپنا حصہ ادا کرنے کا ذمہ وار ہو گا۔(یعنی اگر تاوان ادا کرنے کا فیصلہ ہو تو ) وَإِنَّ الْيَهُودَ يُنْفِقُونَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ مَا دَامُوا مُحَارَ بِينَ۔وَإِنَّ عَلَى الْيَهُودِ نَفَقَتَهُمْ وَعَلَى الْمُسْلِمِينَ نَفَقَتَهُمْ۔