صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 105 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 105

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۰۵ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٠٣٦ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ :۴۰۳۶ حضرت ابو بکر نے کہا: میں نے نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا نُوْرَثُ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارا مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ کوئی وارث نہیں، ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہوتا مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ وَاللهِ لَقَرَابَةُ ہے۔آلِ محمد " اس مال سے کھائیں گے۔اللہ کی قسم ! رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے رشتہ داروں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي۔علیہ وسلم کے رشتہ دار مجھے زیادہ پیارے ہیں کہ میں ان کے ساتھ حسن سلوک کروں۔اطرافه : ۳۰۹۳، ۳۷۱۲، ۶۷۲۶،۴۲۴۱ تشریح : حَدِيثُ بَنِي النَّضِيرِ : جس طرح غزوہ بدر کے اسباب سے متعلق کتب مغازی وغیرہ میں خلط ملط ہے اسی طرح غزوہ بنی نضیر کے بارے میں بھی ان کے بیانات مخدوش ہیں۔اس باب میں اس کی تاریخ وقوع وغیرہ سے متعلق غلطی کا ازالہ کیا گیا ہے جیسا کہ عنوان باب ہی میں عروہ بن زبیر کی روایت کا حوالہ دے کر اُن راویوں کی غلطی کا ذکر ہے جنہوں نے واقعہ بئر معونہ کے بعد اس غزوہ کا ذکر کیا ہے۔داودی نے ابن اسحاق کی روایت کو ترجیح دی ہے جو درست نہیں۔امام ابن حجر نے ان کا استدلال کمزور قرار دے کر دلائل سے اس کارڈ کیا ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۱۳) امام زہری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بنو نضیر کا واقعہ (بقول عروہ بن زبیر ) غزوہ بدر سے چھ ماہ بعد ہوا تھا۔كتب مغازی کی تمہید سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزوات سے متعلق عروہ کی روایات زیادہ قابل وثوق ہیں۔ابن اسحاق نے غزوات کی ترتیب میں غزوہ بنی نضیر کو واقعہ رجیع ، بئر معونہ اور غزوہ اُحد کے بعد رکھا ہے۔ابن سعد نے بھی ابن ہشام کا تتبع کیا۔ان کی ترتیب سے غزوہ بنی نضیر کے اسباب مشتبہ ہو جاتے ہیں۔اس غلطی کا ازالہ کرنے کی غرض سے عنوان باب میں عروہ بن زبیر کی روایت کا حوالہ دینے کے بعد سورۃ الحشر کی آیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔یہ غزوہ آخری کڑی ہے متعدد حوادث کی جو اس سے قبل اور جنگ بدر کے بعد چھ ماہ کے مختصر عرصے میں یکے بعد دیگرے رونما ہوئے جن میں یہودی قبائل مدینہ کا ہاتھ تھا، جب تک ان کی غداری نمایاں نہیں ہو گئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے چشم پوشی اور درگذر فرماتے رہے اور آپ نے میثاق مدینہ کا پاس رکھا جو ہجرت کے شروع ہی میں داخلی حفاظت کی غرض سے ضبط تحریر میں لایا گیا تھا۔مدینہ کے یہودی قبائل بھی اس معاہدے میں شامل تھے۔پیشتر اس سے کہ وہ اسباب بیان کئے جائیں جو غزوہ بنی تفسیر کا باعث ہوئے ، میثاق مدینہ کا نقل کرناضروری ہے۔یہ معاہدہ قبائل مدینہ کے ناموں اور جائے سکونت کی تصریح کے ساتھ سیرت ابن ہشام میں مفصل درج ہے۔اس کی ضروری شقیں حسب ذیل ہیں: