صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 104 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 104

صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ غضب سے نہیں ڈرتیں؟ کیا تم نہیں جانتیں کہ نبی وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا صلى اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ہمارا کوئی وارث صَدَقَةٌ يُرِيْدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَأْكُلُ نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ؟ اس آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سے آپ کی مراد اپنی ہی ذات تھی، آل محمد صلی ا یم هَذَا الْمَالِ فَانْتَهَى أَزْوَاجُ النَّبِيِّ اس مال میں سے اپنے کھانے کے لئے لیا کریں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا گے۔چنانچہ نبی صلی للی کم کی ازواج اس کو سن کر جو میں أَخْبَرَتْهُنَّ قَالَ فَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ نے ان کو بتایا تھا ترکہ کا حصہ مانگنے سے رک گئیں۔بِيَدِ عَلِيٍّ مَنَعَهَا عَلِيٌّ عَبَّاسًا فَغَلَبَهُ عروہ کہتے تھے: یہ صدقہ حضرت علی کے ہاتھ میں رہا، حضرت علی نے حضرت عباس کو نہ دیا اور پھر اُن سے عَلَيْهَا ثُمَّ كَانَ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِي زبردستی یہ مال لیا۔پھر اس کے بعد حضرت حسن بن ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِقٍ ثُمَّ بِيَدِ عَلِي بْنِ حُسَيْنٍ وَحَسَنِ بْنِ بْنِ حَسَنٍ كِلَاهُمَا كَانَا يَتَدَاوَلَانِهَا ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ علی کے ہاتھ رہا۔پھر حضرت حسین بن علی کے ہاتھ میں ، پھر علی بن حسین اور حسن بن حسن کے ہاتھ میں۔بْنِ حَسَنٍ وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُوْلِ اللهِ دونوں باری باری اس کا انتظام کرتے رہے۔پھر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا۔اطرافه: ۶۷۳۰،۶۷۲۷۔زید بن حسن کے ہاتھ میں رہا اور یہ مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طور پر صدقہ رہا۔٤٠٣٥ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ بْنُ مُوسَى :۴۰۳۵ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔أَخْبَرَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَن ہشام نے ہمیں خبر دی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔انہوں الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا حضرت عائشہ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت عباس دونوں اپنا ورثہ أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيْرَانَهُمَا أَرْضَهُ مانگنے کے لئے حضرت ابو بکر کے پاس آئے یعنی مِنْ فَدَكٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ زمین جو فدک میں ہے اور آپ کا وہ حصہ جو خیبر میں ہے۔اطرافه ۳۰۹۲ ، ۳۷۱۱، ۶۷۲۵،۴۲۴۰