صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 102
صحيح البخاری جلد ۸ ١٠٢ ۶۴ - کتاب المغازی يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ تھے اور پھر جو باقی رہتا اسے اللہ کی راہ میں خرچ اللَّهِ فَعَمِلَ ذَلِكَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله کرتے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ساری زندگی میں ایسا ہی کرتے رہے۔آپ فوت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ ثُمَّ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ہو گئے تو حضرت ابو بکر نے کہا: میں رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائمقام ہوں اور حضرت ابو بکر فَأَنَا وَلِيُّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے یہ مال اپنے قبضہ میں لیا اور انہوں نے اس میں وَسَلَّمَ فَقَبَضَهُ أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ فِيهِ بِمَا ایسا ہی تصرف کیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَمِلَ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کیا تھا اور یہ کہہ کر حضرت عمرؓ حضرت علی اور وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ حِيْنَئِذٍ فَأَقْبَلَ عَلَى حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: تم عَلِقٍ دونوں کو یاد ہے کہ حضرت ابو بکر نے اس میں ایسا وَعَبَّاسِ وَقَالَ تَذْكُرَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ہی کیا جیسا کہ تم (بھی) کہتے ہو۔اور اللہ خوب جانتا عَمِلَ فِيْهِ كَمَا تَقُوْلَانِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ ہے کہ حضرت ابو بکر اس کارروائی میں سچے اور فِيْهِ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ نیک تھے اور صراط مستقیم پر قائم اور حق کے متبع تَوَفَّى اللهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِيُّ رہے۔پھر اللہ نے حضرت ابوبکر کو وفات دی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کا میں جانشین ہوں۔میں نے اپنی وَأَبِي بَكْرٍ فَقَبَضْتُهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي امارت میں دو برس تک یہ مال اپنے قبضہ میں رکھا أَعْمَلُ فِيْهِ بِمَا عَمِلَ رَسُوْلُ اللهِ اور اس میں ویسے ہی تصرف کرتا رہا جیسا رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے کیا تھا اور اللہ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيْهِ صَادِقٌ بَارٌ رَاشِدٌ جانتا ہے کہ میں اس میں صادق، نیک، صراط مستقیم تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ جِئْتُمَانِي كِلَاكُمَا پر قائم اور حق کا متبع تھا۔پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور تم دونوں کی بات اور تمہارا معاملہ ایک ہی وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةً وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ تھا۔پھر تم اسے عباس! (اکیلے بھی) میرے پاس فَجِئْتَنِي يَعْنِي عَبَّاسًا فَقُلْتُ لَكُمَا إِنَّ آئے میں نے تم سے یہی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عليه وسلم نے فرمایا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو ہم قَالَ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ فَلَمَّا چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔جب مجھے مناسب