صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 101 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 101

صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - كتاب المغازی السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ هَلْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ اور ایک کو دوسرے سے چھٹکارا دلائیں۔ حضرت عمر رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے کہا: ذرا ٹھہریں، میں تم کو اُس اللہ کی قسم دے کر لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ وچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نَفْسَهُ قَالُوا قَدْ قَالَ ذَلِكَ فَأَقْبَلَ فرمایا تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں عُمَرُ عَلَى عَبَّاسٍ وَعَلِي فَقَالَ صدقہ ہوتا ہے؟ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنَّ کی اپنی ذات مراد تھی۔ کہنے لگے: بے شک آپ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نے یہ فرمایا تھا۔ اس پر حضرت عمر حضرت عباس قَالَ ذَلِكَ قَالَا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي اور حضرت علیؓ کی طرف متوجہ متوجہ : ہوئے اور اور کہا: کو میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ إِنَّ اللَّهَ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا؟ سُبْحَانَهُ قَدْ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ دونوں نے کہا: ہاں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: تب میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ تمہیں اس معاملہ کی اصلیت بتاتا ہوں۔ اللہ پاک لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ فَقَالَ جَلَّ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مالِ غنیمت ذِكْرُهُ : وَمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ میں ایک خاص حق دیا تھا جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں دیا۔ چنانچہ اللہ جل ذکرہ نے فرمایا ہے: جو مال فَمَا أَوْجَفْتُمُ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ اللہ نے اپنے رسول کو اُن سے دلوایا ہے اور تم نے إِلَى قَوْلِهِ قَدِيرٌ (الحشر:7) فَكَانَتْ اس کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے ہیں نہ اونٹ لیکن هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ اللہ اپنے رسولوں کو جس کا چاہتا ہے مالک بنا دیتا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَاللهِ مَا احْتَازَهَا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، تو یہ مال رسول اللہ دُونَكُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ لَقَدْ صلى اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھا۔ پھر بخدا آپ أَعْطَاكُمُوْهَا وَقَسَمَهَا فِيْكُمْ حَتَّى نے تمہیں چھوڑ کر یہ مال اپنے لئے محفوظ نہیں رکھا اور اسے اپنے لئے خاص نہیں کیا بلکہ تمہیں دیا اور بَقِيَ هَذَا الْمَالُ مِنْهَا فَكَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ تم پر تقسیم کیا اور ا تمر یہ مال باقی رہا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى اور اس مال میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ ثُمَّ گھر والوں کو اُن کے ایک سال کا خرچ دیا کرتے اور اس غنیمت میں سے یہ ۔