صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 100 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 100

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی سَتَعْلَمُ أَيُّنَا مِنْهَا بِنُزْهِ عنقریب تم جان لو گے کہ ہم میں سے کون اس آگ وَتَعْلَمُ أَيُّ أَرْضَيْنَا تَضِيرُ اطرافه: ۴۸۸۴،۴۰۳۱،۳۰۲۱،۲۳۲۶ سے دور رہے گا اور یہ بھی جان لو گے کہ ہمارے ملک میں سے نکس علاقہ کو یہ آگ نقصان دے گی۔٤٠٣٣ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۴۰۳۳: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيَ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔انہوں نے مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِي کہا: مالک بن اوس بن حدثتان نصری نے مجھے خبر دی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (وہ ان کے پاس آگئے ) اتنے میں حضرت عمرؓ کے دَعَاهُ إِذْ جَاءَهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ فَقَالَ هَلْ پاس اُن کا دربان پرفاً آیا اور کہنے لگا: کیا آپ لَّكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ اجازت دیتے ہیں کہ حضرت عثمان ، حضرت عبد الرحمن وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُوْنَ فَقَالَ نَعَمْ بن عوف)، حضرت زبیر اور حضرت سعد (بن فَأَدْخِلْهُمْ فَلَبِثَ قَلِيْلًا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ ابی وقاص) آپ سے ملیں؟ یہ لوگ آپ سے اجازت هَلْ لَّكَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيَ يَسْتَأْذِنَانِ طلب کرتے ہیں۔حضرت عمر نے کہا: ہاں اُن کو اندر لے آؤ۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ پھر وہ آیا اور کہنے قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا دَخَلَا قَالَ عَبَّاسٌ لگا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ حضرت عباس اور حضرت يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ علی آپ سے ملیں؟ یہ دونوں اجازت چاہتے ہیں۔عَلَى هَذَا وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فِي الَّذِي آپ نے کہا: ہاں۔جب یہ دونوں اندر آئے، أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عباس نے کہا: امیر المومنین ! میرے اور علی وَسَلَّمَ مِنْ مَّالِ بَنِي النَّضِيْرِ کے درمیان فیصلہ کر دیں اور اُن دونوں کے درمیان فَاسْتَبْ عَلِيٌّ وَعَبَّاسٌ فَقَالَ الرَّهْطُ اس مالِ غنیمت سے متعلق اختلاف تھا جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نضیر سے دلوایا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ تھا۔حضرت علیؓ اور حضرت عباس نے ایک أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ فَقَالَ عُمَرُ اتَّئِدُوْا دوسرے کو سخت سست کہا تھا۔اس جماعت نے کہا: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُوْمُ امیرالمؤمنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیں ا لفظ مال فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۴۱۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔