صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 99
صحیح البخاری جلد ۸ ۹۹ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٠٣١: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا اللَّيْتُ ۴۰۳۱: آدم بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ الله لیث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، عَنْهُمَا قَالَ حَرَّقَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ لی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا دیئے اور کٹوا ڈالے یعنی بویرہ باغ کے۔اور اس وقت وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَنَزَلَتْ : مَا قَطَعْتُمْ مِنْ فَبِاذْنِ الله (الحشر : ٦) لِينَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَابِمَةً عَلَى أَصُولِهَا یہ آیت نازل ہوئی۔یعنی تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے ہیں یا جنہیں اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا ہے تو یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا۔اطرافه ۲۳۲۶، ۴۰۳۲،۳۰۲۱، ۴۸۸۴ ٤٠٣٢ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۴۰۳۲ اسحاق ( بن منصور ) نے مجھ سے بیان کیا حَبَّانُ أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ عَنْ ) کہا : ( حبان نے ہمیں خبر دی کہ جویریہ بن اسماء اللهُ عَنْهُمَا نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے نَافِعَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کی کھجوروں کے حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيْر قَالَ وَلَهَا درخت جلوا دیئے۔کہتے تھے اور انہی کی نسبت يَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ : حضرت حسان بن ثابت نے یہ شعر کہے: وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيِّ بنولوی کے سرداروں کے لئے یہ معمولی بات حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيْرُ تھی وہ آگ جو بویرہ میں شعلہ زن ہوئی قَالَ فَأَجَابَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے : ابو سفیان بن حارث ( بن عبد المطلب) نے (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) حسان کو یہ جواب دیا: الْحَارِثِ : أَدَامَ اللَّهُ ذَلِكَ مِنْ صَنِيْحٍ اللہ اس کارروائی کو ہمیشہ جاری رکھے اور وَحَرَّقَ فِي نَوَاحِيْهَا السَّعِيْرُ مدینہ کے چاروں طرف آگ بھڑکتی رہے،