صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 97
صحيح البخاری جلد ۸ ۹۷ بَاب ١٤: حَدِيْثُ بَنِي النَّضِيْر واقعہ بنو نضیر ۶۴ - کتاب المغازی وَمَخْرَجُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو آدمیوں کی دیت وَسَلَّمَ {إِلَيْهِمْ فِي دِيَةِ الرَّجُلَيْن (خون بہا) میں مدد لینے کے لئے (بنو نضیر) کے وَمَا أَرَادُوْا مِنَ الْغَدْرِ بِرَسُولِ اللهِ پاس جاتا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔قَالَ الزُّهْرِيُّ سے جو دغا بازی کرنے کا ارادہ کیا (اس کا ذکر )۔عَنْ عُرْوَةَ كَانَتْ عَلَى رَأْسِ سِتَّةِ زُہری نے عروہ بن زبیر ) سے نقل کیا ہے کہ یہ أَشْهُرٍ مِنْ وَقْعَةِ بَدْرٍ قَبْلَ وَقْعَةِ أُحْدٍ۔واقعہ بدر کے واقعہ سے چھ مہینے بعد اور جنگ اُحد وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ سے پہلے ہوا۔اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: وہ خدا وہی ہے جس نے پہلی جنگ میں اہل کتاب کافروں کو كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ (الحشر: ٣) وَجَعَلَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ بَعْدَ بِثْرٍ مَعُوْنَةَ وَأُحُدٍ۔اُن کی بستیوں سے نکالا۔اور ابن اسحاق نے اس (بنو نضیر کے واقعہ کو بئر معونہ اور جنگ اُحد کے بعد رکھا ہے۔٤٠٢٨ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ :۴۰۲۸ اسحاق بن نصر نے ہمیں بتایا۔عبد الرزاق حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ( بن ہمام) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ہمیں بتایا۔انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نے نافع سے ، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: بنو قریظہ اور بنو نضیر حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيْرُ فَأَجْلَى دونوں نے (آنحضرت صلی ال نیم سے) لڑائی کی مگر بَنِي النَّضِيْرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ آپ نے بنو نضیر کو تو جلا وطن کر دیا اور بنو قریظہ کو حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ رہے دیا اور ان سے نیک سلوک کیا یہاں تک کہ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ نوقریظہ نے (جنگ خندق میں آپ سے) لڑائی کی بَيْنَ الْمُسْلِمِيْنَ إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا تو آپ نے اُن کے مردوں کو قتل کئے جانے کا حکم لفظ إليهم فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۴۱۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔