صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 96
صحیح البخاری جلد ۸ مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ १५ ۶۴ - كتاب المغازي ابو أسيد انصاری، (۴۲) ۔ حضرت مرارہ بن ربیع ربیعہ ابوا بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، مِقْدَادُ بْنُ عَمْرِو انصاری، (۳۳) حضرت معن بن عدی انصاری، الْكِنْدِيُّ حَلِيْفُ بَنِي زُهْرَةَ، هِلَالُ (۴۴) حضرت مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب بن بْنُ أُمَيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ۔ (۴۵) حضرت مقداد بن عمرو کندی عبد مناف، حلیف بنی زہرہ، (۳۶) حضرت ہلال بن امیہ انصاری رضی اللہ عنہم۔ تشريح : تَسْمِيَةٌ مَنْ سُمِّيَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ فِي الْجَامِع: اس باب میں پتیا لیس بدری صحابہ کے نام ہیں۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام گرامی بھی ہے۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَالِ محمد جن صحابہ کا ذکر مستند احادیث میں اس تصریح کے ساتھ وارد ہوا ہے کہ وہ غزوہ بدر میں شریک تھے ان میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا نام نہیں بحالیکہ ان کی شمولیت کے متعلق اتفاق ہے گو ان الفاظ میں ذکر نہیں کہ وہ غزوہ بدر میں شریک تھے۔ حافظ ضیاء الدین مقدسی نے اپنی تصنیف کتاب الاحکام میں مجاہدین بدر کے نام مفصل لکھے ہیں۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۱۱) اور ابن اسحاق نے بھی ان کے نام قبیلہ وار مع معاونین وغیرہ کا ذکر کر کے تین سو چودہ شمار کئے ہیں۔ ان میں سے مہاجرین تراسی اور انصار دو سو اکتیس جن میں سے بنو اوس اکسٹھ اور بنو خزرج ایک سو ستر ہیں۔ امام ابن حجر نے مذکورہ بالا فہرست میں ایک خامی کی طرف توجہ دلائی ہے، مثلاً حضرت عقبہ بن مسعود برادر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا نام جو اس فہرست میں ہے ، ان کا ذکر غزوہ بدر میں شمولیت کے حوالے سے نہ بخاری میں اس مقام کے علاوہ آیا ہے اور نہ کسی دوسری کتاب مغازی میں۔ اسی طرح حضرت معوذ بن عفراء کے بھائی کا ذکر ہے جن کا نام عوف بن حارث ہے ان کی ماں عفراء تھیں اور ان کے باپ کا نام حارث تھا۔ فقرہ أَخُوۀ کا تعلق حضرت معوذ بن عفراء سے ہے۔ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ علیحدہ فقرہ ہے اور مالک سے مراد حضرت مالک بن ربیعہ ابو اسید انصاری ہیں۔ جن کا ذکر حضرت معوذ بن عفراء اور ان کے بھائی کے بعد آتا ہے۔ ۔ (السيرة النبوية لابن هشام، من حضر بدرا من المسلمين، عدد البدريين جميعا، جزء ۲ صفحه ۳۴۵)