صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 5 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 5

صحیح البخاری جلد ۸ ♡ ۶۴ - کتاب المغازی رض رة مَنْ هَذَا مَعَكَ فَقَالَ هَذَا سَعْدٌ فَقَالَ یہ سعد ہیں۔ ابو جہل نے حضرت سعد سے کہا: میں لَهُ أَبُو جَهْلٍ أَلَا أَرَاكَ تَطُوْفُ بِمَكَّةَ تمہیں دیکھتا ہوں کہ مکہ میں امن سے طواف آمِنًا وَقَدْ أَوَيْتُمُ الصُّبَاةَ وَزَعَمْتُمْ کر رہے ہو حالانکہ تم لوگوں نے ان بے دینوں (یعنی مسلمانوں) کو پناہ دے دی ہے اور تم سمجھے أَنَّكُمْ تَنْصُرُونَهُمْ وَتُعِيْنُونَهُمْ أَمَا وَاللَّهِ بیٹھے ہو کہ آڑے وقت میں ان کے کام آؤ لَوْلَا أَنَّكَ مَعَ أَبِي صَفْوَانَ مَا رَجَعْتَ گئے اور تم ان کی مدد کرو گے۔ دیکھو! اگر تم إِلَى أَهْلِكَ سَالِمًا فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ ابو صفوان کے ساتھ نہ ہوتے تو بخدا تم اپنے وَرَفَعَ صَوْتَهُ عَلَيْهِ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ گھر والوں کے پاس صحیح سالم کبھی نہ لوٹتے۔ مَنَعْتَنِي هَذَا لَأَمْنَعَنَّكَ مَا هُوَ أَشَدُّ حضرت سعد نے ابو جہل سے بآواز بلند کہا: اگر تم عَلَيْكَ مِنْهُ طَرِيقَكَ عَلَى الْمَدِينَةِ نے مجھے اس عمرہ سے روکا تو میں اللہ کی قسم ! تم کو فَقَالَ لَهُ أُمَيَّةُ لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ يَا اس چیز سے روکوں گا جو تم پر اس سے زیادہ گراں سَعْدُ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ سَيِّدِ أَهْلِ ہوگی یعنی مدینہ سے تمہارے قافلے کا راستہ ۔ اُمیہ ريم رض نے یہ سن کر حضرت سعد سے کہا: سعد ! ابوالحکم الْوَادِي فَقَالَ سَعْدٌ دَعْنَا عَنْكَ يَا سردار اہل وادی کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرو۔ أُمَيَّةُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ سعد نے کہا: امیہ ! سعد نے کہا: امیہ ! اپنی ان باتوں سے ہمیں رہنے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُمْ سم میں نے رسول اللہ صلی اللہ ہم سے سنا ہے ، دو۔ بخدا! میں۔ قَاتِلُوْكَ قَالَ بِمَكَّةَ قَالَ لَا أَدْرِي آپ فرماتے تھے کہ وہ (صحابہ) تمہیں مار ڈالیں ارحم فَفَزِعَ لِذَلِكَ أُمَيَّةُ فَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا گے۔ اس نے پوچھا: مکہ میں؟ حضرت سعد نے رَجَعَ أُمَيَّةُ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ يَا أُمَّ کہا: یہ میں نہیں جانتا۔ امیہ حضرت سعد کی یہ بات سن کر بہت ڈر گیا۔ جب اُمیہ اپنے گھر گیا تو صَفْوَانَ أَلَمْ تَرَى مَا قَالَ لِي سَعْدٌ اپنی بیوی صفیہ یا کریمہ بنت معمر سے ) کہنے لگا: قَالَتْ وَمَا قَالَ لَكَ قَالَ زَعَمَ أَنَّ اے ام صفوان ! تو نے سعد کی بات سنی جو اس نے مُحَمَّدًا أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ قَاتِلِيَّ فَقُلْتُ میرے بارے میں کہی ہے؟ اس نے کہا: کیوں سعد لَهُ بِمَكَّةَ قَالَ لَا أَدْرِي فَقَالَ أُمَيَّةُ کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا: کہتا ہے کہ محمد (صلی الیوم) رغم