صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 88 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 88

صحیح البخاری جلدی AA ۶۱ - كتاب المناقب نَخُوضُ الْمَاءَ حَتَّى أَتَيْنَا مَنَازِلَنَا فَلَمْ كَمِثْلِ الزُّجَاجَةٍ فَهَاجَتْ رِيحٌ حضرت انس کہتے تھے : اس وقت حالت یہ تھی کہ أَنْشَأَتْ سَحَابًا ثُمَّ اجْتَمَعَ ثُمَّ آسمان بالکل آئینہ کی طرح صاف تھا۔ اتنے میں أَرْسَلَتِ السَّمَاءُ عَزَالِيَهَا فَخَرَجْنَا آندھی اُٹھی۔ اس نے ابر کو اٹھایا۔ پھر وہ ابر گل گیا اور آسمان نے اپنے دھانے کھول دیئے ۔ ہم پانی میں سے چلتے ہوئے اپنے گھروں کو پہنچے اور نَزَلْ نُمْطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی تو وہی فَقَامَ إِلَيْهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ شخص یا اس کے سوا کوئی اور اُٹھ کر آپ کی طرف يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ فَادْعُ آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! گھر گر گئے۔ اللہ سے اللَّهَ يَحْبِسْهُ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ حَوَالَيْنَا دعا کریں کہ بارش تھا ہے۔ آپؐ مسکرائے۔ پھر وَلَا عَلَيْنَا فَنَظَرْتُ إِلَى السَّحَابِ آپؐ نے دعا کی: ہمارے اردگرد بر سے اور ہم پر يَتَصَدَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ كَأَنَّهُ إِكْلِيْلٌ۔ نہ برسے تو میں نے بادل کو دیکھا کہ وہ پھٹ کر مدینہ کے ارد گرد ہو گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا مدینہ مثل تاج ہے۔ اطرافه : ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳، ۱۰۱۴، ۱۰۱۵، ۱۰۱۶، ۱۰۱۷ ۱۰۱۸، ۱۰۱۹، ۱۰۲۱، ۱۰۲۹، ۱۰۳۳، ۶۰۹۳، ۶۳۴۲ ٣٥٨٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۳۵۸۳: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یچی حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ بن كثير ابو غسان نے ہمیں بتایا کہ ابو حفص نے ہم حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصِ وَاسْمُهُ عُمَرُ بْنُ سے بیان کیا اور ان کا نام عمر بن علاء ہے جو ابو عمرو بن علاء کے بھائی تھے۔ وہ کہتے تھے : میں نے نافع الْعَلَاءِ أَخُوْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ قَالَ سے سنا۔ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت سَمِعْتُ نَافِعًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ کم کھجور کے ایک تنے سے عَنْهُمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سہارا لے کر لوگوں سے مخاطب ہوا کرتے تھے۔ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ فَلَمَّا اتَّخَذَ جب آپ نے منبر بنوایا تو پھر آپ اس پر چلے گئے، الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ اس نے نے اپنے درد اور شوق کا اظہار کیا تو آپ فَأَتَاهُ فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَيْهِ۔ اس کے پاس آئے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا۔