صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 89
صحیح البخاری جلد ۸۹ ۶۱ - كتاب المناقب وَقَالَ عَبْدُ الْحَمِيْدِ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ اور عبد الحمید نے کہا : عثمان بن عمر نے ہمیں بتایا کہ معاذ بن علاء نے نافع سے روایت کرتے عُمَرَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ ہوئے ہمیں یہ حدیث بتائی۔اور ابو عاصم نے بھی نَّافِعٍ بِهَذَا۔وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ عَنِ عَنِ ابْنِ اسے روایت کیا ہے۔انہوں نے ابن ابی رقاد أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔سے، حضرت ابن عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔٣٥٨٤ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۳۵۸۴ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الواحد کیا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ سَمِعْتُ بن ایمن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے الله اپنے باپ سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ أَبِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جمعہ کے دن ایک درخت سے، یا (کہا) کھجور كَانَ يَقُوْمُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَجَرَةٍ کے درخت سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے أَوْ نَخْلَةٍ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ تھے۔تو انصار کی ایک عورت نے یا مرد نے کہا: رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَلَا نَجْعَلُ یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے لئے منبر نہ بنوا لَكَ مِنْبَرًا قَالَ إِنْ شِئْتُمْ فَجَعَلُوْا لَهُ دیں؟ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو۔تو انہوں مِنْبَرًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دُفِعَ نے آپ کے لئے منبر بنوایا۔جب جمعہ کا دن ہوا، آپ اس منبر پر گئے تو کھجور کا درخت بچے إِلَى الْمِنْبَرِ فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ صِيَاحَ کے رونے کی طرح چلانے لگا۔پھر نبی صلی اللہ الصَّبِيِّ ثُمَّ نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عليه وسلم نیچے اتر آئے اور اس کو اپنے گلے لگایا۔وَسَلَّمَ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ يَئِنُّ أَنِيْنَ الصَّبِيِّ وه اس بچے کے رونے کی طرح رو رہا تھا جس الَّذِي يُسَكَّنُ قَالَ كَانَتْ تَبْكِي عَلَى کو چپ کرایا جاتا ہے۔حضرت جابر کہتے تھے: مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ عِنْدَهَا۔وہ اس بات پر رو رہا تھا کہ پہلے اپنے قریب ذکر الہی سنا کرتا تھا۔اطرافه: ۴۴۹، ۹۱۸، ۲۰۹۵، ۳۵۸۵