صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 87
صحیح البخاری جلد AZ ۶۱ - كتاب المناقب فَمَضَى الْأَجَلُ فَفَرَّقْنَا اثْنَا عَشَرَ تک رہا۔ہمارے اور ایک قوم کے درمیان عہد تھا رَجُلًا مَعَ كُلّ رَجُل مِنْهُمْ أُنَاسٌ اور اس کی معیاد گذر گئی تھی۔ہم بارہ آدمی الگ الگ چلے گئے۔ان میں سے ہر ایک آدمی کے ساتھ اللهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ غَيْرَ کچھ لوگ تھے، اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہر ایک آدمی کے أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ قَالَ أَكَلُوْا مِنْهَا ساتھ کتنے تھے۔مگر اس قدر ضرور ہے کہ آپ نے أَجْمَعُوْنَ أَوْ كَمَا قَالَ۔ان آدمیوں کو لوگوں کے ساتھ بھیجا۔حضرت عبد الرحمن کہتے تھے تو ان سب نے اس کھانے میں سے کھایا۔یا کچھ ایسا ہی کہا۔وَغَيْرُهُ يَقُوْلُ فَعَرَّفْنَا مِنَ الْعِرَافَةِ ان کے علاوہ بعض نے کہا: اس جگہ (فَفَرَّقْنَا کی بجائے لفظ) فَعَرَّفْنَا ہے جو عِرَافَة سے ہے۔اطرافه: ۶۰۲، ۶۱۴۰ ، ۶۱۴۱ (یعنی ہم نے نگران بنایا۔) ٣٥٨٢: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۳۵۸۲ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد العزیز سے ، عبد العزیز وَعَنْ يُونُسَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ نے حضرت انس سے روایت کی۔نیز (حماد نے) رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَصَابَ أَهْلَ یونس سے ، یونس نے ثابت سے ، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: الْمَدِينَةِ قَحْطْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا هُوَ والوں میں قحط پڑا۔ایک جمعہ کے دن آپ لوگوں يَخْطُبُ يَوْمَ جُمُعَةٍ إِذْ قَامَ رَجُلٌ سے مخاطب تھے کہ اتنے میں ایک شخص کھڑا ہوا اور فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَلَكَتِ الْكُرَاعُ کہنے لگا: یا رسول اللہ ! گھوڑے مر گئے، بکریاں هَلَكَتِ الشَّاءُ فَادْعُ اللهَ يَسْقِيْنَا فَمَدَّ تباہ ہوگئیں۔اللہ سے دعا کریں کہ ہمیں پانی دے۔يَدَهُ (١) وَدَعَا قَالَ أَنَسٌ وَ إِنَّ السَّمَاءَ آپ نے یہ سن کر اپنے ہاتھ پھیلائے اور دعا کی۔فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ یدیہ ہے۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۷۱۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔