صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 86 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 86

البخاری جلد ۸۶ ۶۱ - كتاب المناقب رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَى رَسُولُ اللهِ چاہا۔ان کی بیوی نے ان سے کہا: کس بات نے آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بَعْدَ کو اپنے مہمانوں سے یا کہا مہمان سے روکے رکھا؟ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ الله حضرت ابو بکر نے کہا: کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ مَا حَبَسَكَ عَنْ وہ کہنے لگیں: انہوں نے آپ کے آنے تک کھانے أَضْيَافِكَ أَوْ ضَيْفِكَ قَالَ أَوَ سے انکار کر دیا۔انہوں نے تو ان کے سامنے کھانا عَشَيْتِهِمْ قَالَتْ أَبَوْا حَتَّى تَجِيْءَ پیش کر دیا تھا مگر مہمانوں نے ان کی پیش نہ چلنے قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوْهُمْ قَالَ دی۔حضرت عبد الرحمن کہتے تھے میں جاکر چھپ فَذَهَبْتُ فَاخْتَبَأْتُ فَقَالَ يَا غُنْتَرُ رہا۔حضرت ابو بکر نے کہا: اے بیوقوف! اور انہوں فَجَدَّعَ وَسَبَّ وَقَالَ كُلُوْا وَقَالَ نے سخت سست کہا۔اور مہمانوں سے کہنے لگے : کھانا کھائیں اور خود قسم کھالی کہ میں ہرگز نہیں کھاؤں گا۔حضرت عبد الرحمن کہتے تھے: اللہ کی قسم ! ہم جو لقمہ بھی لیتے، اس کے نیچے سے اس سے زیادہ کھانا لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا قَالَ وَايْمُ اللهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنَ النُّقْمَةِ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوْا بڑھ جاتا اور انہوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلُ جتنا پہلے تھا اس سے بھی زیادہ ہو گیا۔حضرت ابو بکر فَنَظَرَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا شَيْءٌ أَوْ أَكْثَرُ نے دیکھا تو وہ کھانا ویسے کا ویسا بلکہ اس سے بھی فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ زیادہ تھا۔انہوں نے اپنی بیوی سے کہا: بنی فراس قَالَتْ لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الْآنَ کی بہن! ( یہ کیا!) وہ بولیں قسم میری آنکھوں کی أَكْثَرُ مِمَّا قَبْلُ بِثَلَاثِ مِرَارٍ فَأَكَلَ ٹھنڈک کی یہ تو اب اس سے تین گنا زیادہ ہے جتنا مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ إِنَّمَا كَانَ پہلے تھا۔حضرت ابو بکڑ نے بھی اس سے کھایا اور الشَّيْطَانُ يَعْنِي يَمِيْنَهُ ثُمَّ أَكَلَ کہنے لگے :وہ تو صرف شیطان تھا یعنی اس کی تحریک مِنْهَا لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ پر میں نے نہ کھانے کی قسم کھائی تھی۔پھر اس میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ سے ایک لقمہ کھایا۔اس کے بعد وہ کھانا اُٹھا کر نبی عِنْدَهُ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ عَلى الم کے پاس لے گئے اور وہ آپ کے ہاں صبح