صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 85
صحیح البخاری جلدی ۸۵ ۶۱ - كتاب المناقب ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ فَقَالَ انْزِعُوهُ اور دعا اور دعا کی۔ پھر دوسرے ڈھیر کے ارد گرد گھومے فَأَوْفَاهُمُ الَّذِي لَهُمْ وَبَقِيَ مِثْلُ پھر بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا: کھجوریں نکالو۔ غرض مَا أَعْطَاهُمْ۔ آپ نے جو قرض ان کا تھا، ان کو پورا کا پورا دیا اور جتنا آپ نے ان کو دیا تھا، اتنا ہی بیچ رہا۔ اطرافه ۲۱۲۷، ۲۳۹۵، ۲۳۹۷، ۲۴۰۵، ۲۰۰۱، ۲۷۰۹، ۲۷۸۱، ۴۰۵۳، ۶۲۵۰ ٣٥٨١ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۵۸۱: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيْهِ حَدَّثَنَا معتمر نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بتایا: ابو عثمان نے ہم سے بیان کیا۔ حضرت عبدالرحمن بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ صفہ والے أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَةِ كَانُوْا أُنَاسًا محتاج لوگ تھے۔ اور ایک دفعہ نبی صلی علی روم دفعہ نبی صلی علیہ وسلم نے فرمایا: فُقَرَاءَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو ، وہ تیسرے کو وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً مَنْ كَانَ عِنْدَهُ لے جائے اور جس کے پاس چار کا کھانا ہو، وہ پانچویں طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ وَمَنْ کو لے جائے یا چھٹے کو یا ایسے ہی کچھ الفاظ فرمائے۔ اور حضرت ابو بکر تین آدمیوں کو لے آئے اور نبی كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ صلی الله علم دوس کو لے گئے اور گھر میں حضرت ابو بکر اور بِخَامِسٍ أَوْ سَادِسٍ أَوْ كَمَا قَالَ تین اور شخص تھے۔ تھے۔ حضرت عبد الرحمن کہتے تھے : وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ وَانْطَلَقَ میں، میرا باپ اور میری ماں۔ میں نہیں جانتا آیا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةِ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری بیوی یا میرا خادم جو کہ وَأَبُو بَكْرٍ ثَلَاثَةً قَالَ فَهُوَ أَنَا ابوبکر کے گھر میں مشترکہ تھا۔ ہمارے اور جو حضرت ابوبکر وَأَبِي وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ اور ایسا ہوا کہ حضرت ابو بکر نے نبی صلی الہ وسلم کے ہاں امْرَأَتِي وَخَادِمِي بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْنَ بَيْتِ شام کا کھانا کھایا۔ پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى کہ عشاء کی نماز پڑھی پھر واپس آگئے۔ وہ وہاں اتنی عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دیر ٹھہرے کہ رسول اللہ صلی السلام نے شام کا کھانا کھایا ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ اور اتنی رات گزرنے کے بعد آئے جتنا کہ اللہ نے