صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 83
صحیح البخاری جلدی ۸۳ ۶۱ - كتاب المناقب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُتِي يَا صلى اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا۔ وہ أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ فَأَتَتْ بِذَلِكَ توڑی گئیں اور حضرت ام سلیم نے گھی کی ایک الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله کی نچوڑی اور اس کو بطور سالن کے پیش کیا۔ پھر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتَ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رسول اللہ صلی علیم نے ان روٹیوں پر دعا کی جو عُكَةً فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ دعا اللہ نے چاہی کہ کریں۔ پھر آپ نے فرمایا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْهِ مَا کہ دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُوْلَ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ ہو گئے اور باہر چلے گئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: دس لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوْا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوْا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ اور آدمیوں کو اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے لِعَشَرَةِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوْا حَتَّى گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: دس اور آدمیوں کو شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوْا ثُمَّ قَالَ اجازت دو۔ ان کو اجازت دی اور لوگوں نے اتنا الذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوْا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور باہر چلے گئے۔ پھر آپ حَتَّى شَبِعُوْا ثُمَّ خَرَجُوْا ثُمَّ قَالَ نے فرمایا: دس اور آدمیوں کو اجازت دو۔ ان کو ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ اجازت دی اور لوگوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو حَتَّى شَبِعُوْا وَالْقَوْمُ سَبْعُوْنَ أَوْ گئے۔ اور باہر چلے گئے۔ غرض ان سب لوگوں ثَمَانُوْنَ رَجُلًا۔ اطرافه: ۴۲۲، ۵۳۸۱، ۵۴۵۰، ۶۶۸۸ نے کھایا اور پیٹ بھر کر کھایا اور وہ لوگ ستر یا استی آدمی تھے۔ ٣٥٧٩ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ۳۵۷۹ محمد بن شنی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو احمد الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ زبیری نے ہمیں بتایا کہ اسرائیل نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ کیا۔ انہوں نے منصور سے منصور نے ابراہیم سے، إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ ابراہیم نے علقمہ سے ، علقمہ نے حضرت عبداللہ قَالَ كُنَّا نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً وَأَنْتُمْ (بن مسعود) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم